Afghan delegation visits Turkey to discuss refugee situationتصویر سوشل میڈیا

کابل: امارات اسلامیہ کی وزارت برائے تارکین وطن اور واپسی کے حکام کا کہنا ہے کہ وزارت کے نائب وزیر کی سربراہی میں ایک وفد ترک حکام سے تارکین وطن کو درپیش چیلنجز پر بات چیت کے لیے ترکی گیا ہے۔مہاجرین اور واپسی کے نائب وزیر محمد ارسلا خروتی نے اپنے ہمراہ جانے والے وفد کے ارکان کے ساتھ ترک وزیر داخلہ سلیمان سویلو اور ترکی کی وزارت داخلہ کے سیکورٹی کے سینئر نائب وزیر اسماعیل کتالی سے ملاقات کی اور تارکین وطن کی موجودگی کو قانونی حیثیت دینے اور ان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ان وفود نے ترک حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں افغان تارکین وطن کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینے کے لیے دو طرفہ تعاون اور ایک مشترکہ تکنیکی گروپ کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔

ترک وطن کرنے والے مہاجرین کے امور کی وزارت کے سربراہ مولوی سردار شیرزاد نے کہا کہ امارت اسلامیہ اور ترکی کے درمیان ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے، تکنیکی ٹیمیں اس پر کام کر رہی ہیں اور اسے مکمل کر کے دستخط کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ ترکی جانے والے افغان نوجوان اپنے مسائل کے بارے میں بتاتے ہیں۔ عبداللہ اور مشتاق جو کہ کام کے سلسلے میں ترکی گئے تھے، کو وہاں کی پولیس نے گرفتار کر کے ایک کیمپ میں منتقل کر دیا۔واپس آنے والے عبداللہ نے کہا کہ ہم دو یا تین ماہ تک جیل میں تھے ہمارے ساتھ نہایت بدسلوکی گئی ۔ اور وہ کسی سے کچھ معلوم کیے بغیر ملک بدر کر دیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ترکی سے ہر ہفتے سینکڑوں افغان تارکین وطن کو کابل بھیجا جاتا ہے۔

واپس آنے والے تارکین وطن اسماعیل نے کہا کہ انہوں نے وہ ہمیں کیمپ تک لائے اور ہمیں خروج کے لیے کسی کاغذ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر دستخط نہیں کیے تو یہاں سزا کے لیے کنٹینر تیار کھڑے ہیں۔انہیں ان کنٹینروں سے ایرن بھیج دیں گے جہاں انہیں مار اپیٹا جائے گا اور ان کاسازو سامان اور نقدی بھی چھین لی جائے گی۔ اس لیے ملک بدری کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *