کابل:افغانستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ پڑھا لکھا ہوتے ہوئے بھی وہ بے روزگاری کا شکار ہیں کیونکہ ملک میں روزگار کی شدید قلت ہے اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث انہیں اور ان کے والدین بہت فکر مند ہیں ۔ملک میں روزگار کی قلت کے پیش نظر انہوں نے امارت اسلامیہ سے نوکریاں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 26 سالہ فردین نے، جس نے قانون اور سیاسیات کی فیکلٹی سے گریجویشن کیا اور بے روزگار ہے، کہا کہ بے روزگاری نے انہیں مایوس کیا ہے اور اگر یہ صورتحال جاری رہی تو انہیں لامحالہ نقل وطن کر نے کا راستہ اختیار کر نے پر مجبور ہونا پڑے گا اور وطن عزیز کو خیرباد کہنا پڑے گا۔
ایک اور بے روزگار نوجوان میر کمال نے کہا کہ میں نے 16 سال تعلیم حاصل کی لیکن اب میں بے روزگار ہوں کیونکہ افغانستان میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں ا ور کوئی ہمارے بارے میں نہیں سوچتا۔ اگر حالات ایسے ہی رہے اور ہماری بات پر کان نہ دھرا گیا تو ہم ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔ایک سیاسی تجزیہ کار جنت فہیم چکری نے کہا کہ نوجوان ملک چھوڑرہے ہیں کیونکہ انہیں معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہیں۔
دریں اثنا، وزارت محکمہ محنت و سماجی امور نے کہا کہ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں روزگار فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سماجی کام اور محنت کے وزیر کے دفتر کے سربراہ شرف الدین شرف نے کہا کہ ہمارے زیادہ تر نوجوان قوش تیپا میں مصروف ہیں اور ان میں سے کچھ کانوں میں کام کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے پاکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے گیس اور تیل کی منتقلی کا کام کرتے ہیں۔ وزارت اقتصادیات کے ترجمان عبدالرحمن حبیب نے کہا کہ ان کے پاس ملک میں غربت کو کم کرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا بنیادی ڈھانچہ ک نیز کئی بڑے اقتصادی منصوبے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 