After Jaishankar’s ‘vacate POK’ salvo, China rushes to Pak’s defence, rakes up Kashmirتصویر سوشل میڈیا

گوا:ہندوستان کے شہر گوا میں شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے ایک دن بعد چینی وزیر خارجہ کن گینگ پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی اور صرف صرف کشمیر تنازعہ کے تصفیہ پر زور دیا۔دورے کے اختتام پر چین اور پاکستان نے ایک مشترکہ بیان میں کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو اٹھایا اور اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق مناسب اور پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

تبادلہ خیال کے دوران پاکستان نے چینی وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر تنازعہ تصفیہ طلب ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں فریقین نے ایسے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کی جو پہلے سے غیر مستحکم صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادے۔یہ بات گوا میں ایس سی او اجلاس کے بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ذریعہ پاکستان کی سرزنش کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پڑوسی ملک کو جواب دینا چاہیے کہ وہ ‘جموں و کشمیر کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقے کب خالی کریں گے ۔ ہندوستان نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔۔مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں امن و استحکام خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی، روابط اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *