ابو ظبی:متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روزنامہ نیشنل کے مطابق اسکولوں اور یونیورسٹیوں پر پابندی عائد کیے جانے کے باعث افغان لڑکیوں نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مدرسوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ ان لڑکیوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے اور مزید تعلیم حاصل کر نے کے لیے مدارس تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن ماہرین انتباہ کر رہے ہیں کہ مدرسوں کی تعلیم اس کاکسی طور متبادل نہیں ہوسکتی ہے جو امریکہ کی حمایت یافتہ سابقہ افغان حکومت کے دوران لڑکیوں کو مل رہی تھی۔ اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد امارت اسلامیہ کے رہنماو¿ں نے بتدریج اور بڑے منظم طریقہ کار سے تعلیم نسواں پر پابندی عائد کر کے لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم تک رسائی محدود کردی۔ اگرچہ ابتدائی طور پر طالبان نے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے نرمی اختیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن وہ بہت جلد اپنے وعدوں سے پھر گئے۔
طالبان نے فی الحال درجہ ششم سے اوپر کی 11 اور 12 سال کی عمر کی لڑکیوں کو مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔ کابل کی منیرا نام کی ایک طالبہ نے روزنامہ کو بتایا کہ میں نے ایک ماہ قبل اس مدرسے میں داخلہ لیا تھا۔ یہ میرے گھر کے قریب ہے۔ مجھے بہت مسرت ہے کہ مدرسے میں پڑھنے کی وجہ سے میں قرآن سمجھنے اور کچھ دینی موضوعات پر غور کرنے کے قابل ہو گئی لیکن میں ایک ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ اس نے مزید کہا کہ جب دو سال قبل اس کا اسکول بند کر دیا گیا تو اسے سخت حیرت ہوئی۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ میں اس سال کے شروع میں انکشاف کیا گیا تھا کہ تقریبا 25 لاکھ افغان لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو تعلیمی نظام تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں افغانستان کی وزارت تعلیم کی تعداد کا حوالہ دیا گیا ہے کہ 20ہزار سے زیادہ عمر رسیدہ طالبات حکومت کے زیر انتظام مدرسوں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی مجموعی تعداد 95 ہزارہے۔
تصویر سوشل میڈیا 