Ahmaud Arbery case: 3 white men sentenced to life in jail for killing Black American joggerتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن: (اے یو ایس ) امریکہ کی ایک عدالت نے تین سفید فام افراد کو ایک سیاہ فام شہری احمدآربری کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ سزا پانے والے باپ بیٹے کو پیرول پر رہائی بھی نہیں مل سکے گی۔احمد آربری کے قتل کا واقعہ فروری 2020 میں امریکی ریاست جارجیا کے شہر برونزوک کے نزدیک پیش آیا تھا۔سزا پانے والے ملزمان 66 برس کے گریگ اور 35 برس کے ٹریوس مک مائیکل نے اپنے محلے میں احمد آربری کو بھاگتے ہوئے دیکھا اور اسلحہ اٹھا کر ان کا پیچھا کیا تھا۔

ان کے ہمسائے 52 سالہ ولیم روڈی برائین نے دونوں باپ بیٹے کا ساتھ دیا اور ٹریوس مک مائیکل کو شاٹ گن سے احمد آربری کو قتل کرنے کی ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ملزمان کا مو قف تھا کہ وہ احمد آربری کو چور سمجھے تھے۔ البتہ تحقیقات میں پتا چلا تھا کہ آربری اس علاقے میں جوگنگ کر رہے تھے۔پچھلے برس نومبر میں مقدمے کی سماعت کرنے والی جیوری نے تینوں افراد کو قتل اور دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔جارجیا کے ریاستی قانون میں قتل کی لازمی سزا عمر قید ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں گریگ اور ٹریوس کو پیرول سے محروم رکھا ہے جب کہ ان کے ہمسائے برائین کو پیرول کا حق دیا ہے لیکن انہیں پہلے 30 برس قید میں گزارنے ہوں گے۔

جمعے کو فیصلہ سنائے جانے سے قبل احمد آربری کے خاندان نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ تینوں مجرموں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے۔احمد آربری کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کے دوران ملزمان کے وکیل کی جانب سے دیے جانے والے ان دلائل نے کہ احمد کا قتل ان کے اپنے غلط فیصلوں کا نتیجہ تھا، ان کے دکھ میں مزید اضافہ کیا۔مقتول کی والدہ کا کہنا تھا کہ اس قتل میں معاملہ غلط فہمی کا نہیں تھا۔ انہوں نے میرے بیٹے کو اس لیے نشانہ بنایا کہ وہ اسے اپنی کمیونٹی میں برداشت نہیں کر سکتے تھے۔احمد آربری کا قتل ابتداً زیادہ توجہ حاصل نہیں کر سکا تھا۔ لیکن قتل کے دو ماہ بعد اس وقت اس واقعے نے امریکہ بھر کی توجہ حاصل کرلی تھی جب اس قتل کی وہ ویڈیو آن لائن لیک ہو گئی تھی جو ولیم روڈی برائن نے اپنے سیل فون سے بنائی تھی۔دفاعی وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل میں جائیں گے۔ وہ اگلے 30 روز کے اندر اپیل کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *