یروشلم:اسرائیلی قانون سازوں نے پیر کے روز ملک کے عدالتی نظام کی تشکیل نو کے لیے تقسیم کرنے والے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے منصوبے کے ایک اہم حصے کی منظوری دے دی ۔ ان منصوبوں نے،جنہیں جنوری میں متعارف کرایا گیا تھا، ملک کو تقسیم کر دیا جس سے اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک چھڑگئی تھی۔پارلیمنٹ میں ہنگامہ خیز کارروائی کے بعد،جس میں حزب اختلاف کے قانون ساز شرم کرو شرم کرو کے نعرے لگاتے ہوئے چیمبر سے باہر نکل گئے، نتین یاہو کے حکمراں دایاں بازو اتحاد کے تمام 64اراکین نے،جو دو تہائی ہوتے ہیں، اس منصوبے کے حق میں ووٹ کیا۔
قانون سازوں نے پیر کی رات تک متنازعہ قانون پر بحث کی اور اس دوران اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے سمجھوتہ کرنے کی سر توڑ کوشش کی اورنتین یاہو سے اسپتال جا کر ملاقات کی۔مفاہمت کرانے کے لیے ہرزوک کی مساعی کے باوجود اسرائیل کے اپوزیشن لیڈریائر لیپڈ نے کہا کہ اتفاق رائے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔
لاپیڈ کو ووٹنگ سے قبل یہ کہتے سنا گیا کہ اس حکومت کے ساتھ ایسے معاہدے ، جو اسرائیلی جمہوریت کو محفوظ رکھ سکیں،کرناناممکن ہے۔ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گیر نے آخری لمحات میں سمجھوتہ کرانے کی کوششوں کی مذمت کی۔ وزیر نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ اتحاد کے کچھ عناصر مذاکرات کر رہے ہیں اور ایسا سمجھوتہ چاہتے ہیں جس سے قانون کی بالا دستی کو زک پہنچ سکتی ہے۔ یہ بل سپریم کورٹ کے پر قینچ کر دےگا اور ایسے حکومتی فیصلوں کو جنہیں جج غیر معقول سمجھتے ہیں،عدالت عظمیٰ منسوخ نہیں کر سکتی۔
تصویر سوشل میڈیا 