Amiri says no possibility to soften or ease sanctionsتصویر سوشل میڈیا

کابل: امریکہ کی خصوصی ایلچی برائے انسانی حقوق اور امور افغان خواتین و لڑکیاں رینا امیری نے کہا ہے کہ لڑکیوں کے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے معاملہ پر نئی حکومتی قیادت کے اراکین کے مابین کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔

امیری نے اسلامی امارات سے مطالبہ کیا کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ لے لیا جائے۔ترکی کے ٹی آر ٹی کو انٹرویو دیتے
ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی امارات عبین الاقوامی شرائط تسلیم کیے بغیر پابندیوں میں تخفیف یا خود کو تسلیم نہیں کرا سکے گی۔ امیری نے مزید کہا کہ جب طالبان خود طے شدہ شرائط کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اپنے ہی وعدوں کو پورا نہیں کر رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پاندیاں نرم ہو جائیں۔

ایسی صورت حال میں پابندیوں میں نرمی یا کمی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ انہیں ایسا کیا کرنا چاہئے جس سے کہ پابندیاں ہٹ سکتی ہیں۔لیکن امیری کے اس خیال پر کہ لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے کے فوراً بعد بند کیے جانے کے معاملے پر حکومتی عہدیداران کے درمیان اختلافات ہیں وزارت تعلیم نے اس کی تردید کی اور کہا کہ کوئی اختلاف رائے یا تنازعہ نہیں ہے اور لڑکیوں کے لیے درجہ ششم سے اوپر کی جماعتوں والے اسکولوں کو کھولنے کا حتمی فیصلہ قیادت ہی کرے گی۔

وزارت تعلیم کے ترجمان احمد عزیز ریان نے کہا کہ جب کبھی بھی حکومتی عہدیداران درجہ ہفتم تا دوازدہم کے اسکولوں کوم کھولنے کا فیصلہ کرے گی وزارت تعلیم لڑکیوں کے پورے ملک کے تمام اسکولوں کو کھولنے کے لیے تیار ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *