کابل:امارت اسلامیہ نے افغانستان کے حوالے سے برطانوی ہائی کمشنر متعین پاکستان کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے افغانستان کے تئیں مغرب کی منفی اور غلیظ سوچ و نظریہ سے تعبیر کیا ۔ اس ضمن میں امارت اسلامیہ کے ایک سینئر رکن انس حقانی نے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریوٹ کے تبصرے پر ردعمل میں آن لائن کہا کہ میریوٹ ابھی تک پروپیگنڈے کی دبیز چلمن سے باہرجھانک کر حقائق کو دیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے بہانے چھیڑی جانے والی مظالم ڈھانے والی بے رحمانہ جنگ حملہ آوروں کی شکست کے ساتھ انجام کو پہنچی۔
انس حقانی نے مغربی میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان کے بارے میں پروپیگنڈہ پھیلا رہا ہے جس نے عوام کو حقائق سے دور رکھا۔جن لوگوں کو تمام ممالک/ اداروں اور تنظیموں نے بلیک لسٹ کر رکھا تھا وہ آج اس سرزمین کے حکمراں ہیں اور اپنے عوام میں نہایت مقبول ہیں۔ نیٹ ورک نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ ایک ملک، نظام اور قیادت ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریوٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین پر نہ صرف پھل پھول رہی ہیں بلکہ وہ افغانستان سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان پر اگر لگام نہ کسی گئی تو جلد یا بدیر وہ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک زبردست خطرہ بن جائیں گی۔میریوٹ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج اور سلامتی دستے سرحد پار افغانستان سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا شکار ہو رہے ہیں اور وہ پاکستان کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو بھی محفوظ رکھنے کی قیمت چکا رہے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 