بیجنگ:(اے این آئی)چین کے صدر شی جن پنگ کی زیرو کوویڈ پالیسی اور نہایت سخت لاک ڈاؤن سے چین کے مالیاتی مرکز اور اس کے سب سے بڑے شہر شنگھائی میں تقریباً 25 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں ۔ لیکن یہاں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ یہ اقدامات ناگزیر نہیں تھے اور ان سے بچا جایا سکتا تھا۔
جون کے اوائل میں چین کے مالیاتی مرکز اور اس کے سب سے بڑے شہر شنگھائی میں آخر کار دو ماہ سے زیادہ کے بعد سخت ترین زیرو کوویڈ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا علان کرنا پڑا۔ واشنگٹن ٹائمز کی رپورٹ کی کے مطابق کم و بیش 25 ملین باشندے اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے، بہت سے لوگوں کو کسی سہارے کے بغیر ہی قرنطینہ مراکز میں ڈال دیا گیا، وہ بچے جن میں کوویڈ19-کی تشخیص ہوئی انہیں والدین کی گود سے زبردستی چھین کر علیحدہ کر دیا گیا ، کچھ غذائی قلت کے باعث بھوک سے بلک بلک کر دم توڑگئے اور بیمار اور بزرگوں کی حیات و صحت بخش ادویات تک رسائی نہ ہوسکی ۔اس عظیم شہر پر مجموعی اثر یہ ہوا کہ وسیع پیمانے پر بے بسی و بے حسی کا سبق ملا۔
نتیجتاً عوام خاص طور پر متوسط طبقے اور نوجوان نسل کے نقطہ نظر پر دیرپا اثر مرتب ہو سکتا ہے، کیونکہ بے بسی و مجبوریوں کے جذبات و احساسات اور لاک ڈاؤن ان پر تھوپا گیا تھا۔ رپورٹ میںمزید کہا گیا کہ اگرچہ معاشی سرگرمیاں جلد ہی دوبارہ تزیسے شروع ہو سکتی ہیں، لیکن نفسیاتی زخم نہ صرف برسوں مندمل نہیں ہو سکتے بلکہ مستقل نشانات بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت نے شی جن پنگ کی ہدایت پر پوری طرح اور موقع پرستانہ طور پر کوویڈ19-وبا کا بھر پور ناجائز فائدہ اٹھایا۔
تصویر سوشل میڈیا 