At least 16 bodies found in Kandahar, sparking outcryتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان کے انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ رچرڈ بینیٹ نے اس ویڈیو پر جس میں قندھار میں ایک اجتماعی قبر اور انسانی باقیات کو دکھایا گیا ہے، اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات کی ضرورت ہے کہ فارنسک جانچ کر کے ان باقیات کو مزید نقصان نہ پہنچایا اور خراب نہ کیا جائے ۔ نیز ہمیں لواحقین کے جذبات و احساسات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کا نگراںکمیشن تمام جنگی جرائم کی بین الاقوامی اصول و ضابطہ کے مطابق تحقیقات کرنا چاہتا ہے۔

امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ قبر کی جگہ اور انسانی باقیات آٹھ سال پہلے کی ہیں اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ویڈیو میں اسپن بولدک کے رہائشیوں کو16لاشیں نکالتے دکھایا گیا ہے۔،“ کریمی نے مزید کہا کہ قندھار کے ا سپنک بولڈک کے رہائشیوں کو یہ اجتماعی قبر اس وقت نظر آئی جب وہ ایک کنواں کھود رہے تھے۔ قبر آٹھ سال پرانی اس دور کی ہے جب سابق
حکومت برسراقتدار تھی۔ اس سلسلے میں ہماری تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرین کے لواحقین نے انصاف کا مطالبہ کیا۔ہم انصاف چاہتے ہیں۔ متوفیان میں سے ایک متوفی کے بھائی عبد الرحیم نے کہا کہ اس نوعیت کے جرائم کے مرتکبین کا احتساب کیا جانا چاہیے۔۔اروزگان کے


ایک رہائشی نے کہا کہ ہم امارت اسلامیہ اور عالمی برادری سے التماس کرتے ہیں کہ جنگی جرائم کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔اروزگان کے ایک رہائشی نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں کی جنگ میں بہت سے جرائم ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *