At least 20 people, including 12 children were killed after a van fell into a ditch Sindhتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد:سیلاب زدہ صوبہ سندھ میں اندس شاہراہ پر گہری کھائی میں، جس میں سیلاب کا پانی جمع ہو گیا تھا، جا گری جس میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 12 بچوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ جمعرات کے روز اس وقت پیش آیا جب صوبے کے خیرپور سے سیہون شریف جانے والی مسافر وین خواتین اور بچوں سمیت عقیدت مندوں کو لے کر خیرپور کے قریب انڈس ہائی وے پر سیلابی پانی کے لیے بنائے گئے اس کھڈ میں جاگری جو اس لیے بنائے گئے تھے تاکہ سیہون کی مختلف یونین کونسلوں سے بہہ کر آنے والا سیلابی پانی دریائے سندھ میں جا گرے ۔

دنیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ میں کئی دیگر زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کے مطابق لاشیں سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سہون شریف منتقل کردی گئیں۔انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر معین صدیقی کے مطابق جو 20لاشیں لائی گئی ہیں ان میں 8 خواتین،6 بچیاں اور 6 بچے ہیں۔اور ڈرائیور سمیت سبھی ہلاک شدگان کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔پولیس افسر عمران قریشی نے بتایا کہ وین ضلع خیرپور سے مسافروں کو سہون میں ایک مشہور صوفی کے مزار پر لا رہی تھی۔ انڈس ہائی وے کے ذریعے 30 فٹ چوڑا کٹ لگاکر کھائی بنائی گئی تھی تاکہ زیر آب آنے والے علاقوں سے دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ کو تیز کیا جا سکے ۔

تین عشروں میں ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے ملک میں آنے والے بدترین سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں حالات نہایت ابتر ہیں ۔ سیلاب سے 1600 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کی غفلت کے باعث کٹ دو ماہ سے بند نہیں ہوئی تھی جس کے باعث حادثہ پیش آیا جبکہ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان شگافوں کو بھر دیا گیا تھا اور گاڑیوں کی آمد ورفت کے لیے راستہ بحال کر دیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ اس حالیہ تباہ کن سیلاب سے سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان دونوں خطوں میں اس سال جولائی میں بارش 30 سالہ ریکارڈ سے تجاوز کر گئی ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری نے اس المناک سانحہ پر دکھ کا اظہار کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *