Balochistan govt decides to probe 'killings' in Ziarat operationتصویر سوشل میڈیا

کوئٹہ:(اے یو ایس ) حکومتِ بلوچستان نے زیارت میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کی ، جس میں ایک پاکستانی فوجی افسر اور اس کا غیر فوجی کزن ہلاک ہو گیا، تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے خیال رہے کہ ڈی ایچ اے کوئٹہ میں تعینات لیفٹیننٹ کرنل لئیق بیگ مرزا زیارت کے علاقے وارچوم سے ان کے کزن عمر جاوید کے ہمراہ اس وقت اغوا کرلیا گیا تھا جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کوئٹہ واپس جا رہے تھے۔لئیق مرزا زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کا دورہ کرنے گئے تھے، وہاں سے واپسی پر 10 سے 12 مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور دونوں افراد کو اغوا کر لیا تھا۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کی سریع الحرکت فورس فوری طور پر روانہ کی گئی جس نے سراغ لگایا کہ عسکریت پسند منگی ڈیم کی طرف اپنے خفیہ ٹھکانوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اس کے بعد فوج کے ایلیٹ ایس ایس جی کمانڈوز نے متاثرین کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا، تھا ۔ سلامتی دستوں کو قریب آتے دیکھ کر عسکریت پسندوں نے لیفٹیننٹ کرنل مرزا کے سر میں گولی مار دی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے تھے ان کے قبضے سے آئی ای ڈیز، دھماکا خیز مواد اور گولہ بارود کا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا تھا جبکہ باقی عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔بعدازاں فوجی افسر کے ہمراہ اغوا کیے گئے ان کے کزن کی بھی لاش زیارت کے علاقے وارچوم میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران برآمد کرلی گئی تھی۔آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو دہشت گرد مارے گئے جن کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے کی کلیئرنس کے بعد پورے علاقے کو صاف کیا گیا۔

اس حوالے سے وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کرنل لئیق بیگ کے قتل کے بعد سیکیورٹی فورسز نے زیارت کے علاقے میں ایک بڑا آپریشن کیا تھا۔ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے حالیہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے 9 میں سے 5 افراد کا تعلق ایک دہشت گرد تنظیم سے تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ’تاہم ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھے جو ’وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز‘ نامی تنظیم نے تیار کی تھی۔

ضیا اللہ لانگو کا یہ تبصرہ بی این پی-مینگل، نیشنل پارٹی اور کچھ بلوچ قوم پرست گروہوں کے اس دعوے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ اس آپریشن میں مارے گئے 5 عسکریت پسند درحقیقت لاپتہ افراد تھے اور وہ مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کے اٹھانے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ان جماعتوں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔چنانچہ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے بلوچستان ہائی کورٹ کو مراسلہ ارسال کر کے کہا کہ صوبائی حکومت زیارت آپریشن سے متعلق عدالتی انکوائری کروانا چاہتی ہے۔مراسلے میں کہا گیا کہ عدالتی انکوائری زیارت آپریشن میں مارے جانے والے افراد کے زیر حراست ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ہے۔ساتھ ہی محکمے نے رجسٹرار ہائی کورٹ سے عدالتی انکوائری کے لیے عدالت عالیہ کے ایک معزز جج کا نام تجویز کرنے کی بھی درخواست کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *