BAP threatens to leave PTI govtتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: (اے یوایس)حکمران تحریک انصاف پارٹی کو ا س وقت زبردست جھٹکا لگا جب ان کے اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کے نمائندوں نے ایوان بالا سے واک آؤٹ کرتے ہوئے عمران خان کو دھمکی اگر انہیں وزارت میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی تو وہ حکومت کے ساتھ نہیں چلیں گے۔

پارٹی کے سینئر ممبر پرنس احمد عمر،احمد زئی نے سینیٹ سے واک آو¿ٹ کا اعلان کرنے سے پہلے کہا کہ ہم اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی تبھی حکومت کے ساتھ دے گی جب ہمارے مطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ سناجائے گا،انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے ان کی پارٹی کو وفا کی حکومت نے بہت کم نمائندگی دی گئی۔بلوچستان کے عوام احساسی محرومی کا شکار ہے۔اس سے پہلے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) ،نے اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔سینیٹر پرنس احمد نے کہا اگر ان کے مطالبات نہیں سنے گئے تو وہ اجلاس سنیٹ کا پورا بائیکاٹ کریں گے، اسی پارٹی کے ایک اور سینیٹر انوارالحق کا کہنا ہے کہ شعبے میں انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور ہے، گیس اور بجلی کی قلت ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کا یہ فیصلہ اس وقت آیا جب اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر غور کررہے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کے رہنما حکمران جماعت کے اتحادی پارٹیوں کے ساتھ رابطے میں ہے، اس سلسلے میں سابق صدر آصف زرداری نے مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری شجاعت کے ساتھ حال ہی میں ملاقات کی جب کہ اپوزیشن حزب اختلاف کے لیڈر شہباز شریف نے متحدہ قومی مو منٹ کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

مولانا فضل الرحمن بھی متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماؤں سے ملے ۔ دریں اثنا یہ بات بھی سامنے آئی کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حال ہی میں کچھ وزراءکی کارکردگی پر ان کی تعریف کرنے پر ان کی کابینہ میں بھی اختلافات پیداہوگئے اور کچھ سینئر وزراءنے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔مسٹرعمران خان نے وفاقی کی وزیرمرادسعید،عمر اسعد ،ڈاکٹر شوکت ترین اور سات وزراءکو بہترین کارکردگی کے لیے تعریف کی، لیکن ان کی لسٹ میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی،وزیردفاع پرویز خٹک اور دوسرے وزراءشامل نہیں ہے، جس سے وہ ناخوش ہے۔

شاہ محمود قریشی جوکہ تحریک انصاف پارٹی کے نائب صدر بھی ہے نے اس سلسلے میں ایک خط وزیراعظم کے سکریٹریٹ کو روانہ کیا۔ یہ خط انہوں نے وزیراعظم کے خصوصی معاون ارباب شہزاد کو لکھااور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کس بنا پر ان وزراءکو امتیازی سرٹیفکیٹس دی گئی۔حکومت کے اتحادی مسلم لیگ(ق) اور متحدہ قومی امور کے وزراءنے بھی اس مسئلے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔مسٹرشاہ محمود قریشی اور اتحادی پارٹیوں کے رہنماو¿ں نے کہا کہ وزیراعظم کی اس کارروائی سے وہ بہت ناخوش ہے اور اس سے کابینہ میں دراڑ پیدا ہوئی ہے۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ایسے اقدامات نہیں اٹھانے چاہئیں جو باعث اختلافات بن سکتے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *