BJP open the door of hearts for Punjab and Sikhsتصویر سوشل میڈیا

سنیل پانڈے

ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کی سری اکال تخت صاحب کے جتھیدار گیانی ہرپریت سنگھ سے ہوئی ملاقات کا بھارتیہ جنتا پارٹی کو پنجاب چنا و¿میں فائدہ ملے گا یا نہیں۔ یہ کہنا ابھی مشکل ہے لیکن پہلی بار مرکزی سرکار کے کسی بڑے وزیر نے اس طرح سے جاکر جتھیدار سے سری اکال تخت صاحب کے سیکرٹریٹ میں ملاقات کی ہے۔ اسے محض اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے۔ حالانکہ بھاجپا کا ایجنڈا راشٹر واد پر چلنے والارہا ہے، لیکن سکھ مسائل پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خصوصی جھکاو¿ کی وجہ سے بھاجپا کی پالیسیاں کچھ بدلی ہوئی لگتی ہیں۔ لمبے وقت تک شرومنی اکالی دل کے ساتھ گٹھ بندھن میں پنجاب چنا ؤلڑنے والی بھاجپا اس با ر بڑے بھائی کے کردار میں ہے۔ بھاجپا اپنی پوری کوشش میں ہے کہ اسے پنجاب شہری ہندو ووٹوں کے ساتھ سکھ بھی ووٹ ڈالیں ۔ حالانکہ تقریبا ایک سال تک چلے کسان تحریک کی ٹیس ابھی پنجاب کے کسانوں کے ذہنوں میں ہے۔ جس وجہ سے پنجاب کے گاوؤں میں بھاجپا کے لئے ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اس خلا کو پر کرنے کے لئے مرکزی سرکار پنجاب کے تمام مسائل اور سکھوں کے سبھی مانگوں کولیکر کھلا دل دکھارہی ہے۔ اس کا اثر چنا و¿ میں کتنا پڑے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ تقریبا 50منٹ تک جتھیدار کی وزیر داخلہ سے ہوئی ملاقات میں کئی سکھ معا ملوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات کے بعد وزیر داخلہ کو جتھیدار نے اعزز بھی بخشا ۔ اس طویل ملاقات کا خوب ذکر ہو رہا ہے اور سکھ حلقوں میں ملا جلا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ لوگ وزیر داخلہ کو اعزاز دینے کیلئے کوس رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ وزیر داخلہ کے اس دورے کو پنجاب اور سکھوں کے مفاد میں بتا رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی پنجاب میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت تمام مرکزی وزیر سکھوں کے لئے کئے گئے کاموں کو گنوا رہے ہیں۔ انتخابی جلسوں میں باقاعدہ سر پر پگڑی باندھ کر پیغام دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ پنجاب کیلئے بھاجپا سب سے بڑی پارٹی ہے۔ لہذا دیکھنا ہوگا کہ منفی حالات میں بھاجپا پنجاب میں کیا نتائج دیتی ہے۔ پنجاب چنا و¿ سے د ہلی گوردوارہ کمیٹی نے بنائی دوری:حال ہی میں تشکیل دی گئی دہلی سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبران نے پنجاب ودھان سبھا چنا میں دوری بنارکھی ہے۔

اس سے پہلے ہونے والے تقریبا سبھی چھوٹے بڑے چنا (لوک سبھا، ودھان سبھا، میونسپل باڈی) میں دہلی گوردوارہ کمیٹی کے تمام نیتا وعہدیدار شرومنی اکالی دل (بادل)یا کانگرس پارٹی کے لئے چنا پرچار میں جاتے رہے ہیں۔ لیکن یہ پہلی بار ہے کہ جب دہلی کمیٹی کے ممبران کسی پارٹی کی کھل کر حمایت کرنے سے دوری بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ شرومنی اکالی بادل کے چنا نشان پر ہی چنا جیتنے والے ممبران کی دہلی کمیٹی پر پربندھن چل رہا ہے۔ اکالی دل کے صوبائی صدر رہے ہرمیت سنگھ کالکا وپارٹی کی مہلا ونگ کی صدر بی بی رنجیت کور نے عین وقت پر صدر کے عہدے سے استعفی دے کر اس بات کے اشارے دے دئے کہ وہ اکالی دل کیلئے پرچار سے دوری بنائیںگے۔ اب تک تمام چنا ؤمیں دہلی کمیٹی کے ملازم سے لے کر گاڑی ، لنگراورچناوی سامگری تک بھیجی جاتی رہی ہے۔

دہلی کے دگج سکھ نیتاں کی چنا ؤمیں شرکت کم : پنجاب میں ہو رہے اسمبلی چنا ؤکے دوران ہر بار کی طرح اس بار دہلی کے سکھ رہنماو¿ں کی کم حصے داری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ عام طور پر کیپٹن امریندر سنگھ کی حمایت میں پنجاب میں چنا و¿پرچا ر کرنے والے پرمجیت سنگھ سرنا بھی اس بار پنجاب چنا میں کسی پارٹی کے لئے ووٹ نہیں مانگ رہے ہیں۔ حالانکہ سرنا نے بٹھنڈہ اور امرتسر میں پچھلے دنوںپریس کانفرنس کرکے پنجاب کے ووٹروں سے اپیل ضرور کی تھی کہ وہ اکالی دل بادل کو ووٹ نہ ڈالیں ۔ سکھ سیاست میں دخل رکھنے والی جاگو پارٹی کے صدر منجیت سنگھ جی کے بھی ابھی تک پنجاب چنا و¿میں کسی بھی پارٹی کی انتخابی مہم میں نہیں گئے۔ جبکہ تخت سری پٹنہ صاحب کمیٹی کے صدر اوتار سنگھ ہت سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے انتخابی حلقہ لمبی میں ڈیرہ ضرور ڈالے ہوئے ہیں۔

ای میل: sunilpandeyvip@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *