Blinken: All options available to prevent Iran from acquiring a nuclear weaponتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن(اے یو ایس)امریکی وزیر خارجہ انتھونی (انٹونی) بلینکن نے کہا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے پرواپسی کی موجودہ تجویزکومسترد کردیا ہے لیکن واشنگٹن اب بھی سمجھتا ہے کہ ایران کی جوہری فائل سے نمٹنے کا سب سے مو¿ثرطریق سفارت کاری ہے۔بلینکن نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایرانی نوجوان تہران کی حکومت کے سامنے اپنے بنیادی حقوق کا دفاع کررہے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ اب امریکاکی توجہ ایرانی حکومت کے سڑکوں پراپنے لوگوں کو دبانے کے اقدامات پرمرکوزہے۔بلینکن نے ایرانی عوام کے لیے امریکی حمایت پر روشنی ڈالتے ہوئےاس بات پرزوردیاکہ” ایران میں حکومت کی تبدیلی’ کا فیصلہ بالآخرعوام پرمنحصر ہے جبکہ ایرانی حکومت اپنے لوگوں کواس بات پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ امریکاحکومت کی تبدیلی چاہتا ہے۔انھوں نے اس بات پرزوردیا کہ ایران یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی حمایت کرتاہے اور اسے ڈرونزاوردیگرہتھیارمہیا کرتا ہے۔

انھوں نے امریکی صدرجو بائیڈن کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیارحاصل نہ کرے، انھوں نےوضاحت کی کہ ایران کوجوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے میزپرتمام آپشن موجود ہیں۔انھوں نے نشان دہی کی کہ امریکانے ایران میں جبرواستبدادکے تمام ذمہ داروں کو سزادی ہےاوروہ ایران کی ضرررساں سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے طریقوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔بلینکن نے یہ بھی کہا کہ امریکاکی فوجی کوششوں کا بنیادی مقصد جارحیت پسندوں کوروکنا ہے۔انھوں نے خاص طورپراسرائیل کے ساتھ امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں کا حوالہ دیا۔

انھوں نے اعلان کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کوکم کرنے کے لیے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔انٹونی بلینکن نے سعودی،امریکا تعلقات کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک اور مملکت کے درمیان اہم تعلقات گذشتہ کئی دہائیوں سے استوار ہیں۔انھوں نے سعودی عرب کی جانب سے روس کی جنگ کے مقابلے میں یوکرین کی مالی امداد کا بھی ذکرکیا۔امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یوکرین میں روس کی جنگ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں مشترکہ مفادات اوراقدار کی عکاسی کرنے کی ضرورت پرزوردیا۔انھوں نے واضح کیا کہ ”ہمیں اوپیک پلس کے تیل کی پیداوارمیں کمی کے فیصلے پرتشویش لاحق تھی“۔انھوں نے بتایاکہ واشنگٹن یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیےالریاض کے ساتھ مل کرکام کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *