Britain reacts to explosive Meghan and Harry interviewتصویر سوشل میڈیا

لندن:(اے یو ایس )برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے تازہ ترین اور انکشافات سے بھرپور انٹرویو پر دنیا بھر میں بات ہو رہی ہے۔ انٹرویو پر جہاں عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے وہیں کئی اہم شخصیات نے بھی اس پر ردِ عمل دیا ہے۔ہیری اور میگھن کے اس انٹرویو سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ برطانوی شاہی خاندان میں واضح اختلافات موجود ہیں۔ تقسیم کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ گزشتہ سال محل چھوڑنے والے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن نے اب برملا اس کا اظہار کیا ہے۔خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق امریکی ٹی وی کی معروف میزبان اوپرا ونفری کے ساتھ دو گھنٹوں کے اس انٹرویو میں ہیری نے انکشاف کیا کہ ان کے والد پرنس چارلس اور بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات خاصے خراب ہو گئے تھے۔

میگھن مارکل نے بھی انٹرویو میں کئی انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ محل میں ان پر اتنا دباو? تھا کہ وہ خود کشی تک کا سوچنے پر مجبور ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بیٹے کی پیدائش سے قبل خاندان کے ایک فرد کو یہ “فکر” لاحق تھی کہ ان کے بیٹے کا رنگ کیسا ہوگا؟انٹرویو کے بعد شاہی محل کے اس فرد کے بارے میں بھی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ آ خروہ فرد کون تھا۔ لیکن شہزادہ ہیری نے انٹرویو کے بعد اوپرا ونفری کو بتایا ہے کہ وہ نہ تو ان کی دادی ملکہ ایلزبتھ دوم تھیں اور نہ ہی ان کے دادا پرنس فلپ۔برطانوی شاہی محل کی جانب سے اب تک اس انٹرویو پر کوئی ردعمل یا بیان جاری نہیں ہوا ہے۔ لیکن دنیا بھر سے اہم شخصیات اس انٹرویو پر اپنی رائے دے رہی ہیں۔برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ہیری اور میگھن کے انٹرویو پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جب شاہی خاندان کے معاملات کی بات ہو تو وزیرِ اعظم کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ کچھ نہ کہے۔”وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکریٹری جین ساکی سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس انٹرویو کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن یا ان کی اہلیہ جِل نے کوئی ردعمل دیا ہے؟ تو ترجمان نے کہا کہ میگھن کا اپنی ذہنی کیفیت اور خود پر گزرے حالات بیان کرنے کے فیصلے کے لیے ہمت کی ضرورت ہے اور “یہ وہی عمل ہے جس پر صدر یقین رکھتے ہیں۔”جین ساکی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گی کیوں کہ ہیری اور میگھن آزاد شہری ہیں جو اپنے نجی معاملات اور اپنی مشکلات لوگوں سے شیئر کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے سابق وزیرِ اعظم میلکم ٹرن بل نے کہا ہے کہ اس انٹرویو نے ان کی اس دلیل کو تقویت بخشی ہے کہ آسٹریلیا کو برطانوی شاہی خاندان سے اپنے تعلقات منقطع کر لینے چاہئیں۔انہوں نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ شاہی خاندان خوش نہیں ہے۔ کم از کم میگھن اور ہیری تو خوش نہیں ہیں اور یہ بہت افسردہ کرنے والی بات ہے۔ٹینس اسٹار سرینا ولیمز نے بھی انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میگھن کے الفاظ ان کے اس درد اور ظلم کی عکاسی کرتے ہیں جو انہیں سہنا پڑا۔ واضح رہے کہ سرینا ولیمز میگھن مارکل کی دوست ہیں اور انہوں نے ہیری اور میگھن کی شادی میں بھی شرکت کی تھی۔دوسری جانب میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ برطانوی شاہی خاندان نسل پرست ہے۔ انہیں امید ہے کہ شاہی خاندان کے فرد کی جانب سے میگھن کے بیٹے کی رنگت کے بارے میں کی گئی مبینہ باتیں صرف ایک فضول سوال ہو گا۔واضح رہے کہ میگھن کی اپنے والد سے بول چال بند ہے اور میگھن کی شادی کی بعد سے دونوں باپ بیٹی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

منگل کو ایک برطانوی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تھامس مارکل نے کہا کہ شاہی خاندان کا فرد نسل پرست نہیں ہوگا بلکہ میگھن کے بیٹے کی رنگت کے بارے میں کسی شخص نے شاہی خاندان کے فرد سے کوئی فضول سوال پوچھا ہو گا۔ہیری اور میگھن کے اس انٹرویو کے مندرجات دنیا کے تمام بڑے نشریاتی اداروں اور اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق برطانوی اخبارات نے ہیری میگھن کے انٹرویو کو سرورق پر جگہ دی۔ڈیلی مرر نے خبر لگائی کہ “شاہی خاندان میں گزشتہ 85 برس کا بدترین بحران۔”ڈیلی میل نے لکھا کہ “انہوں (ہیری اور میگھن) نے کیا کر دیا ہے؟”دی سن کے کالمسٹ ٹریور کاوناگ نے سوال اٹھایا کہ کیا اس انٹرویو کا مقصد شاہی خاندان کا خاتمہ ہے؟دی ٹائمز نے ‘رائل اٹیک’ کے عنوان سے لکھے گئے ا?رٹیکل میں کہا کہ شاہی خاندان کے لیے اس سے زیادہ نقصان دہ شاید ہی کوئی چیز ہو۔ دی ٹائمز نے لکھا کہ صدیوں سے جاری بادشاہت کی بقا وقت کے تقاضوں کے مطابق چلنے کی وجہ سے ہے۔ شاہی خاندان کو اسے دوبارہ اپنانے کی ضرورت ہے۔شہزادہ ہیری اور میگھن مرکل کے اس انٹرویو کا چرچا سوشل میڈیا پر بھی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس معاملے سے متعلق مختلف ٹرینڈز گردش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ‘رائٹرز’ نے شاہی محل کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ملکہ ایلزبتھ اس معاملے پر کوئی بیان جاری کرنے سے پہلے کچھ وقت لینا چاہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *