Canada and UNAMA oppose Taliban's order for women to wear a full burqaتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) اور کناڈا نے افغانستان میں خواتین کے لیے پورے جسم کو ڈھانپنے کے طالبان کے فرمان کی کھلے عام مخالفت کی ہے۔ یو این اے ایم اے کا کہنا ہے کہ طالبان کے اس فیصلے سے عالمی برادری کے ساتھ تناو¿ مزید بڑھ سکتا ہے۔ حجاب اور برقعہ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تمام افغانوں، بشمول خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کے حوالے سے طالبان کی یقین دہانیوں کے خلاف ہے، جو طالبان کے نمائندوں نے حکومت کی تشکیل کے بعد کئی دور کے مذاکرات کے دوران دی تھیں۔

یو این اے ایم اے نے کہا کہ وہ طالبان حکام سے فوری ملاقات کی درخواست کرے گی تاکہ اس فیصلے کی حیثیت کے بارے میں وضاحت طلب کی جا سکے۔ افغان نیوز ایجنسی پاژوک کی رپورٹ کے مطابق یو این اے ایم اے بین الاقوامی برادری کے اراکین کے ساتھ اس کے اثرات کے بارے میں بھی بات کرے گا۔ادھر کناڈا نے بھی افغانستان میں عوامی مقامات پر خواتین کو مکمل برقع پہننے پر مجبور کرنے کے طالبان کے حالیہ فیصلے کی مذمت کی ہے۔ کناڈا کے محکمہ برائے عالمی امور نے کہا کہ کناڈا کو طالبان کی جانب سے افغان خواتین پر لگائی جانے والی بڑھتی ہوئی پابندیوں پر گہری تشویش ہے جس میں اب عوام میں برقعہ پہننے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ انسانی حقوق جو پامال کیے جا رہے ہیں ان کا تحفظ ہونا چاہیے۔

واضح ہو کہ ہفتے کے روز طالبان نے ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے خواتین کو عوامی مقامات پر سر سے پاو¿ں تک ڈھانپنے کا حکم دیا تھا۔ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا فرمان کابل میں ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا کہ اگر کوئی خاتون اپنے گھر کے باہر چہرہ نہیں ڈھانپتی ہے تو اس کے والد یا قریبی مرد رشتہ دار کو جیل بھیج دیا جائے گا یا سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا جائے گا۔یو این اے ایم اے نے کہا کہ اگرچہ طالبان نے اگست 2021 میں قبضے کے بعد خواتین کو ان کے حقوق کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن اب طالبان اپنے وعدوں سے مکر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *