واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میکوال نے افغانستان کے حوالے منعقد ایک سمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اپنے تمام اختیارات کو استعمال کرکے افغان خواتین اور لڑکیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔افغان خواتین اور لڑکیوںکو درپیش مسائل اور اس کے بحران پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد گول میز کانفرنس میں میک کوال نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد سے موجودہ افغان حکومت نے خواتین کی آزادیوں کو سختی سے محدود کرنے کے لیے 30 سے زائد فرمان جاری کیے ہیں اور یہ کمیٹی افغان خواتین اور لڑکیوں کی مدد اور طالبان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق ہر ممکن کوشش کرے گی۔
تاہم دوسری جانب امارت اسلامیہ نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا مسئلہ ملک کا اندرونی مسئلہ ہے اور موجودہ حکومت اسلامی اصولوں کے مطابق اس کا حل تلاش کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہانہوں نے جو مسائل اٹھائے وہ افغانستان کے عوام سے متعلق ہیں اور یہ افغان عوام اور افغانستان کے ملک کا اندرونی مسئلہ ہیں۔ اس کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خواتین کے حقوق پر مسلسل پابندیاں افغانستان اور عالمی برادری کے درمیان کشیدگی بڑھا دے گی۔
ایک سیاسی تجزیہ کار نجیب اللہ جامی نے کہا کہ خواتین کے روزگار اور تعلیم کے حوالے سے ایسی بامعنی اصلاحات کی جانی چاہئیں جن سے افغانستان کو تسلیم کیے جانے کا مسئلہ حل ہو اور قوم کے استحکام اور اتحاد کا باعث بنے۔ ایک سیاسی تجزیہ کار محمد زلمے افغان یار نے کہا کہ شریعت میں خواتین کی تعلیم اور ان کے کام کرنے کے حق کی واضح تشریح کی گئی ہے فی االحال خواتین کو یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں غیر سرکاری تنظیموں۔( این جی اوز) میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ علاوہ ازیں درجہ ششم سے اوپر کی لڑکیوں کے ا سکول جانے پر بھی پابندی عائد ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 