Chaos and violence may return in Iraq due to postponement of presidential electionتصویر سوشل میڈیا

بغداد:(اے یو ایس)عراقی پارلیمان میں ملکی صدر کے انتخاب کے لیے طے شدہ ووٹنگ پیر کے روز غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی جس کے باعث جنگ زدہ عراق اب شدید سیاسی بحران کا شکار نظر آ رہا ہے۔اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اب ایک ابر پھر عراق میں افرا تفری اور تشدد کا دور واپس آسکتا ہے۔عراق میں سات فروری بروز پیر صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونی تھی تاہم پارلیمان میں نمائندگی کے حامل سیاسی دھڑوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور رائے دہی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔عراق میں چار ماہ قبل عام انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک نئے ملکی وزیر اعظم کا انتخاب ممکن نہیں ہو سکا۔ ریاستی سربراہ کے چناو¿ کے لیے پارلیمان میں رائے دہی پیر کی دوپہر ہونا تھی۔ چار سالہ مدت کے لیے اس عہدے پر اس وقت عراقی کرد اقلیت سے تعلق رکھنے والے برہم صالح فائز ہیں۔عراقی پارلیمان میں صدارتی انتخاب کے لیے رائے دہی اس وقت کھٹائی میں پڑ گئی، جب مختلف پارلیمانی دھڑوں اور سیاسی گروپوں نے اجلاس کے بائیکاٹ کی سلسلہ وار کال دے دی۔

بغداد کے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والے گرین زون میں قائم 329 نشستوں والی پارلیمان میں مطلوب دوتہائی ارکان کی موجودگی کے امکانات بھی کم ہی نظر آرہے تھے۔پیر کی سہ پہر محض چند درجن ممبران ہی پارلیمانی ایوان میں جمع ہوئے۔ ایک سرکاری اہلکار نے قبل ازیں اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کر دی تھی کہ پیر سات فروری کو ”صدارتی الیکشن کے لیے ووٹنگ نہیں ہو گی،“عراق میں گذشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ٹرن آو¿ٹ ریکارڈ حد تک کم تھا۔ اس کی وجہ الیکشن سے پہلے کی دھمکیاں اور تشدد کا سلسلہ بنے۔ اس کے علاوہ الیکشن کے حتمی نتائج کی تصدیق میں بھی کئی ماہ کا عرصہ لگ گیا اور اس تاخیر کی وجہ سے سیاسی گروپوں کے مابین سنجیدہ مذاکرات کے باوجود پارلیمان میں کسی اکثریتی اتحاد کی تشکیل ممکن نہ ہو سکی اور مصطفیٰ الکاظمی کی جگہ نئے وزیر اعظم کا چناو¿ بھی ممکن نہ ہو سکا۔ہفتے کے روز صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان سب سے پہلے عراقی پارلیمان میں سب سے بڑے بلاک نے کیا تھا، جس کی قیادت طاقت ور شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کر رہے ہیں۔ ان کے دھڑے کے پاس پارلیمان کی 73 سیٹیں ہیں۔ ان کی تقلید کرتے ہوئے اتوار کو 51 رکنی ‘خود مختار اتحاد‘ نے بھی ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔

اس اتحاد کے رہنما مقتدیٰ الصدر کے قریبی ساتھی اور موجودہ پارلیمانی اسپیکر محمد الحلبوسی ہیں۔ادھر عراقی پارلیمان میں 31 نشستوں والی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ڈی پی نے بھی دریں اثناءاعلان کر دیا کہ وہ بھی سیاسی دھڑوں اور گروپوں کے مابین مشاورت اور مکالمت میں حصہ نہیں لے گی۔ عراق کے ایک اور اہم سیاسی بلاک ‘کوآپریشن فریم ورک‘ نے بھی، جو کئی شیعہ جماعتوں کا گروپ ہے، موجودہ سیاسی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمانی اجلاس منعقد ہی نہیں ہونا چاہئے۔پیر کے روز مجوزہ صدارتی ووٹنگ کے عمل کو اس وقت مزید دھچکا لگا جب اتوار کے روز ملکی سپریم کورٹ نے برہم صالح کے ایک کلیدی حریف اور 68 سالہ لیڈر ہوشیار زیباری کی صدارتی امیدواری کی معطلی کا اعلان کر دیا۔کے ڈی پی کے لیڈر اور سابق وزیر خارجہ ہوشیار زیباری پر عدالت نے بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں تاہم زیباری ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

زیباری نے گزشتہ جمعے کے روز ایک ٹیلی وڑن انٹرویو میں کہا تھا، ”مجھے کسی بھی عدالت نے مجرم نہیں ٹھہرایا۔“ ان پر عدالتی الزامات ایسے وقت پر سامنے آئے، جب صدارتی چناو¿ کے لیے ووٹنگ سے قبل یہ پیش گوئیاں سامنے آنے لگی تھیں کہ زیباری غالباً صالح کے صدارتی منصب سے ہٹ جانے کا سبب بنیں گے۔موجودہ 25 صدارتی امیدواروں میں دوسرے نمبر پر صالح ہیں، جو عراقی کردستان کے علاقے میں کے ڈی پی کی مرکزی حریف ‘پیٹریاٹک یونین آف کردستان‘ پی یو کے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دریں اثناءسپریم کورٹ کا موقف یہ تھا کہ وہ مختلف قانون سازوں کی طرف سے شکایات موصول ہونے پر زیباری کو معطل کر رہی ہے اور بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ان کی امیدواری ‘غیر آئینی‘ ہے۔اطلاعات کے مطابق شکایت کنندگان نے ان کے ‘مالی اور انتظامی بدعنوانی‘ سے متعلق الزامات میں 2016 ءمیں پارلیمان کی طرف سے وزیر خزانہ کے عہدے سے برطرف کیے جانے کا حوالہ دیا۔ ان پر لگے الزامات میں کم از کم دو دیگر عدالتی مقدمات بھی شامل ہیں، جن میں 2003 میں امریکا کی قیادت میں حملے کے نتیجے میں صدام حسین کے دور کے خاتمے کے بعد سے ان کے طویل عرصے تک وزیر خارجہ رہنے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔عراق میں صدارتی انتخاب کا التوا وہاں موجودہ سیاسی بحران میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے کیونکہ ملک میں صدر ہی اپنے انتخاب کے بعد 15 روز کے اندر اندر پارلیمان میں سب سے بڑے سیاسی دھڑے کے کسی سیاستدان کو نیا وزیر اعظم نامزد کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *