China find new friends in Middle East as US 'discloses' its Indo-Pacific plansتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ: چین عالمی سپر پاور بننے کے اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے اقتصادی اقدامات کو فروغ دے رہا ہے۔ در اصل چین عالمی سپر پاور بننے کی اس قدر شدید خواہش رکھتا ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے اس نے نئے دوست بنا نے کی جانب پیشرفت کر دی ہے۔ اور اپنے اس منصوبے پر عمل آوری کے لیے اس نے مشرق وسطیٰ میں بطور دوست متحد ہ عرب امارات (یو اے ای) کا انتخاب کیا ہے جو کہ ہندوستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دراصل امریکہ جس طرح چین کو روکنے کے لیے نئے معاہدے کر رہا ہے ، چین بھی اس کے جواب میں قدم اٹھا رہا ہے او اب چین کو مشرق وسطیٰ میں ایک نیا پارٹنر مل گیا ہے۔جیسے ہی امریکہ نے اپنے انڈو پیسفک اکنامک فریم ورک کی نقاب کشائی کی اسی طرح چین نے مشرق وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات اور زیمبیا کے ساتھ گٹھ جوڑ شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، چینی صدر شی جن پنگ نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان اور زیمبیا کے ہم منصب ہاکینڈے ہچی لیما کو گزشتہ ماہ کے آخر میں فون کیا تھا۔

خاص بات یہ ہے کہ شی جن پنگ نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون کیا جب بائیڈن انتظامیہ نے انڈو پیسفک میں چینی تسلط کو ختم کرنے کے لیے اپنی نئی پالیسی کا انکشاف کیا۔در اصل آئی پی ای ایف کو امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ماہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں کواڈ میٹنگ کے دوران شروع کیا تھا ، جس کا مقصد انڈو پیسفک یعنی ہند بحرالکاہل خطے میں تجارتی شراکت داری کو چین کے اثر سے آزاد کرنا ہے۔ امریکہ کے علاوہ اس تنظیم میں مزید 12 ممالک شامل ہیں جن میں آسٹریلیا ، برونائی ، انڈیا ، انڈونیشیا ، جاپان ، جمہوریہ کوریا ، ملیشیا ، نیوزی لینڈ ، فلپائن ، سنگاپور ، تھائی لینڈ اور ویت نام شامل ہیں۔ یعنی 13 ممالک کایہ اتحاد دنیا کی کل جی ڈی پی کا 40 فیصد نمائندگی کرتا ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کو چھوڑ کر اس تنظیم کے تمام شراکت دار براعظم ایشیا کے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان ممالک میں سے بیشتر چین کے پڑوسی ہیں اور چین کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔

لہذ اس تجارتی پلیٹ فارم کو بنانے کا مقصد انڈو پیسفک میں ترقی کو بڑھاوا دینے کے ساتھ چین کے معاشی غلبے کا مقابلہ کرنا ہے۔ واضح ہو کہ کہ شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکہ کی ناراضگی کھل کر سب کے سامنے آئی ہے۔ ان سب کے درمیان چینی وزیر دفاع جنرل وی فینگ نے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ تائیوان کی آزادی کو روکنے کے لیے آخری دم تک لڑے گا۔ جنرل وی فینگ نے الزام لگایا کہ امریکہ کثیرالجہتی نظام کی آڑ میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ 1949 میں چین میں خانہ جنگی کے بعد تائیوان الگ ہو گیا تھا۔ لیکن چین ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے۔ شنگریلا ڈائیلاگ میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تائیوان کی آزادی کی کھوج ایک ‘ڈیڈ اینڈ’ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *