Chinese president, Xi Jinping, unwavering in his support for Putinتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ: جہاں ایک جانب روسی صد ولادیمیر پوتین برسوں میں پہلی بار اقتدار پر اپنی گرفت کے لیے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہیں وہیں چین میں ان کے ہم منصب شی جن پینگ روسی صدر کے تئیں ا پنی حمایت کے گوشوارے پر پڑنے والے اثرات پر غور کررہے ہوں گے۔ویگنر گروپ کی بغاوت نے ، جس میں یف گینی پروگیژین کی زیر کمان فوجیں ماسکو کے چند سو کلومیٹر کے اندرداخل ہو چکی ہیں، روس کی مسلح افواج میں تقسیم اور دراڑیں بے نقاب کر دی ہیں جو چین کے سب سے طاقتور اتحادی کے استحکام کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہیں۔

یوکرین جنگ کے شروع ہونے کے وقت سے ہی چین کے صدر شی جن پینگ نے اپنے پیارے دوست پوتین کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے اور اس پر ثابت قدم ہیں۔ اگرچہ شی نے واضح طور پر روس کے حملے کی توثیق و تائید نہیں کی ہے، لیکن انہوں نے اس کی مذمت کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور جنگ کے لیے اس کے بہت سے جوازوں کو درست قرار دیا ہے روس کے لیے چین کی حمایت عملیت پسندی اور نظریے پر مبنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *