Climate change could swamp this island. Home sales are surging.تصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن ،(اے یوایس )موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کی واضح تصویر میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے متصل امریکی ریاست میری لینڈ کا سمتھ جزیرہ 400 سال سے زائد عرصے تک آباد رہنے بعد سمندر میں ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہوچکا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ برسوں پہلے سمندری طوفان سینڈی نے جزیرے کے گھروں کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور اس کے اوپر اٹھنے والے پانی کی ظاہری شکل اسی طرح کی تھی جیسے ہارر فلموں میں دکھایا گیا ہے، کیونکہ اس نے “اسے نقشے سے تقریباً مٹا دیا تھا۔دوسری طرف سمندروں اور ماحولیات کے ماہر ولیم سویٹ نے کہا ہے کہ یہ جزیرہ جس کی سطح سمندر سےاونچائی اوسطاً دو فٹ ہے۔ سنہ 2050ءتک یہ جزیرہ پانی میں جا سکتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ درمیانے درجے کا سیلاب بھی اسے ڈبو سکتا ہے اور عمارتیں زیر آب کا سکتی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2100 تک سمندر کی سطح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ یہ ایسا منظر ہے جو پورے جزیرے کو ڈوب سکتا ہے۔یہ قابل ذکر ہے کہ کچھ مطالعات نے امریکا میں اور بھی ایسے مقامات اور جزیرے موجود ہیں جو سمندر میں ڈوب رہے ہیں، تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں، جنگلات کی کمی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے کئی شہر اور جزیرے مٹ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ امریکی گرم شہری علاقوں اور جنگلات کی آگ کا شکار علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں آنے والے سمندری طوفان زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *