Convicted of five murders in Afghanistan sentenced to public deathتصویر سوشل میڈیا

کابل:افغانستان میں طالبان کی اقتدار میںدوبارہ واپسی کے بعد منگل کو اجمل نام کے ایک شخص کو ، جس پر پانچ افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا،سرعام پھانسی دے دی گئی۔ ملک کی سپریم کورٹ نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ جب اجمل کے خلاف معاملہ حکومت کے نوٹس میں آیا تو اس کی مکمل تحقیقات کی گئی۔ تحقیقات کے بعد تین مختلف عدالتوں نے اس کی سزائے موت کی توثیق کی جس کے بعد طالبان کے رہبر اعلیٰ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے سزائے موت کا حکم جاری کر دیا۔

تفصیل کے مطابق کابل کی ایک عدالت نے اجمل نامی جس شخص کو موت کی سزا سنائی اسے گزشتہ سال کے دوران دو الگ الگ واقعات میں پانچ افراد کو قتل کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔اجمل کے قتل ہونے والے پانچ افراد میں سے ایک کے بیٹے سید ولی نے اجمل کو اسلامی قانون کے مطابق مشرقی لغمان صوبے کے صوبائی گورنر کے دفتر کے قریب واقع ایک مسجد کے باہر رائفل سے گولی مار ی گئی۔ اجمل کے ہاتھوں قتل ہونے والے دیگر چار افراد کے رشتہ دار اجمل کو سزائے موت کے قت موقع پر موجود تھے ۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ نے طالبان کے دور حکومت میں سرعام پھانسی، کوڑے لگانے،جسمانی تشدد کرنے اور سنگ باری پر طالبان پر سخت تنقید کی تھی اور امارت سلامیہ کے رہنماو¿ںسے ان طریقوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے مطابق صرف افغانستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 274 افراد بشمول 58 خواتین اور دو لڑکوں کو سرعام کوڑے مارے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *