نئی دہلی، (اے یوایس) تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے پیر کے روز ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معافی مانگی ہے جس میں وہ ایک نابالغ لڑکے کو اپنے ہونٹوں پر چومتے ہوئے اور پھر اسے ‘زبان چوسنے’ کے لیے کہتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے بعد شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیاگیا۔ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دلائی لاما بچے کو اپنے ہونٹوں سے چوم رہے ہیں جب بچہ ان کی تعظیم کے لیے جھک گیا۔ چند سیکنڈ کے بعد، تبتی روحانی پیشوا کو اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے اور اپنی زبان باہر نکالتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا تم میری زبان چوس سکتے ہو؟ ویڈیو میں دلائی لامہ کو نابالغ لڑکے سے پوچھتے ہوئے سنا گیاہے۔پیر کے روز دلائی لامہ کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک حالیہ ملاقات کو دکھایا گیا ہے جب ایک نوجوان لڑکے نے دلائی لامہ سے پوچھا کہ کیا وہ انہیں گلے لگا سکتے ہیں۔ دلائی لامہ اس لڑکے اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کے چاہنے والوں سے معافی مانگنا چاہتے ہیںکیونکہ اس الفاظ سے ان کی تکلیف پہنچ سکتی ہے۔
ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ دلائی لامہ اکثر ان لوگوں کو چھیڑتے ہیں جن سے وہ ملتے ہیں معصومانہ اور چنچل انداز میں، یہاں تک کہ عوام میں اور کیمروں کے سامنے۔ انہیں اس واقعے پر افسوس ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دلائی لامہ کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ چند سال پہلے، روحانی پیشوا کے اس تبصرہ نے کہ اگر ان کی جانشین عورت بنتی ہے تو اسے پرکشش ہونا پڑے گا، جس کے بعد خوب تنازعہ ہوا تھا۔ تبت کے روحانی پیشوا نے تاہم بعد میں اپنے تبصرے پر معافی مانگ لی تھی۔
تصویر سوشل میڈیا 