Death toll from tribal clashes in Sudan soars to 65تصویر سوشل میڈیا

خرطوم: (اے یو ایس ) جنوب مشرقی سوڈان کے صوبہ بلیو نائل کے وزیر صحت جمال ناصر السید کے مطابق صوبہ میں قبائل کے درمیان جاری مسلح تصادم میں مزید32افراد یک ہلاکت سے ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 65ہو گئی جبکہ150سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ مسلح جھڑپوں کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی اور پولیس سے مدد مانگنے کی اطلاعات ہیں۔ہفتے کے روز جھڑپیں بلیو نائل کے مشرقی کنارے پر رصیرص کے علاقے میں ہوئیں۔ اس علاقے کو ایک پل کے ذریعے ریاست کے دارالحکومت دمازین سے جوڑا گیا۔وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کم از کم 150 افراد زخمی بھی ہوئے۔

جمال ناصر السید نے بتایا کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔البرتی اور ہوسا قبائل کے درمیان زمین کے تنازع پر پیر کے روز شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے اب تک سولہ دکانوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔الرصیرص کے مقامی اہلکار عادل العقار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہمیں اضافی فورسز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قبائل کے بزرگوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو پرسکون کرنے کے لیے ان سے بات کریں۔ شہریوں نے پولیس اسٹیشن کا سہارا لیا ہے۔ پولیس انہیں ہرممکن تحفظ فراہم کرے گی۔العقار نے مزید کہا کہ ہفتے کی صبح جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا لیکن اب تک ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد کا علم نہیں ہو سکاہے۔

الروصیرص اسپتال کے ایک طبی اہلکار نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ ابتدائی طبی امداد کا سازو سامان بھی ختم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ریاست کی سکیورٹی کمیٹی نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایک بیان میں تصدیق کی کہ یہ جھڑپیں ریاست بلیو نیل کے قیصان، الروصیرص بکوری، ام درفا اور قنیص کے علاقوں میں برتی اور ہوسا قبائل کے درمیان ہوئیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست میں سکیورٹی حکام نے میں مقامی وقت کے مطابق 18:00 سے 06:00 تک کرفیو نافذ کر دیا۔بلیو نائل کے گورنر احمد العمدہ نے بھی جمعہ ایک ماہ کے لیے اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی کا فیصلہ جاری کیا ہے۔ہفتے کی شام گورنر نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ قیصان میں صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن روصیرص میں تصادم جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *