Death toll grows in Iran as Mahsa Amini protests continue for 10th nightتصویر سوشل میڈیا

تہران:(اے یو ایس ) ایران میں اخلاقی پولس کی حراست میں مہسا امینی نام کی ایک22سالہ دو شیزہ کی موت کے خلاف بڑے پیمانے پرکیے جانے والے احتجاج و مظاہرے آ ج منگل کے روز 11ویں روز میں داخل ہو گئے ۔ عوام میں اس معاملہ پر اس قدر غم و غصہ ہے کہ واقعہ کو11دن بیت گئے پھر بھی مظاہروں میں کمی کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے بلکہ مظاہروں میں مزید شدت آتی جا رہی ہے۔ارن انٹرنیشنل نیٹ ورک کے مطابق ایرانی ٹیچرز یونینز کی کوآرڈینیٹنگ کونسل نے اساتذہ اور طلباء سے پیر اور بدھ کو سکول نہ جانے کی اپیل کردی۔ کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ہ عوامی مظاہروں کو دبانے کے لیے ا سکولوں کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کرنے اور سڑکوں پر طلبہ اور مظاہرین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔

اتوار کی شام تہران اور ملک کے شمال اور مغرب کے دیگر شہروں میں مذہبی ریاست قبول نہیں اور حکومت مردہ باد، صدر مردہ باد کے نعروں کی گونج سنائی دی گئی۔ مظاہرین نے ایرانی رہبر معظم علی خامنہ ای کے حوالے سے بھی مردہ باد کے نعرے لگائے۔16 ستمبر کو مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے شمال میں ایک صوبے میں 700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا۔ پورے ملک میں گرفتار کئے گئے افراد کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔ایک تصدیق شدہ اطلاع کے مطابق اس احتجاجی لہر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز پر مشتمل 41 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق یہ تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہےکیونکہ اوسلو میں قائم غیر سرکاری تنظیم “ایران ہیومن رائٹس” نے اعلان کیا ہے کہ کم از کم 57 مظاہرین کو مار دیا گیا ہے۔خیال رہے ایران میں حالیہ احتجاج 16 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کو نامکمل حجاب کرنے کے الزام میں ایرانی اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا اور بعد میں دوران حراست مہسا امینی کی موت ہوگئی تھی۔

مہسا کی موت کے بعد شروع ہونے والے یہ احتجاجی مظاہرے 2019 میں ایندھن کی قیمت میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد سب سے بڑا احتجاج ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2019 کے ان مظاہروں میں 1500 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اب مہسا امینی کی موت کے بعد ایران بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لوگوں نے شخصی آزادیوں اور خواتین کے لباس سے متعلق پابندیوں پر غصہ کا اظہار کیا ہے۔ معاشی بحران اور حکومت کی جانب سے نافذ سخت قوانین سے بھی ایرانییوں میں اشتعال ہے۔ حالیہ مظاہروں میں خواتین نے بھی بڑے پیمانے پر حصہ لیا۔ بعض احتجاجی خواتین نے سروں پر لئے گئے دوپٹوں کو نذر آتش کرکے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بعض خواتین نے سرعام اپنے بال کاٹ ڈالے۔ مشتعل ہجوم نے خامنہ ای سے نجات دلانے کا بھی مطالبہ کردیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *