Dozens killed in Turkish air strikes against Kurdish militants in Syria, Iraqتصویر سوشل میڈیا

انقرہ: ترکی نے اعلان کیا کہ اس نے شمالی شام اور عراق میں کالعدم کرد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ہدف بنا کر بمباری کی۔ اس نے کہا کہ یہ وہی اڈے ہیں جنہیں ترکی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ برطانیہ مقیم جنگ پر نظر رکھنے والی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ترکی کی شمال اور شمال مشرقی شام میں رات بھر چلنے والی اس فضائی کارروائی میں ، جو بنیادی طور پر شامی کرد دستوں کے اڈوں کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی،کم از کم31افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ترکی نے اپنی فضائی کارروائی جسے ’کلا سورڈ‘ کا نام دیا گیا ہے،گزشتہ ہفتے استنبول کے بھیڑ بھاڑ والے بازار میں بم دھماکے کے بعد ، جس میں 6 افراد ہلاک اور 81 زخمی ہوگئے تھے ، شروع کی ہے۔ترک وزیر دفاع ہلوسی اکار نے ایئر فورس آپریشن مرکز سے جنگی جہازوں کی روانگی سے قبل کہا کہ ہم ابھی سے آپریشن ’کلا سورڈ‘ کا آغاز کر رہے ہیں۔

ترکی کی حکومت نے اس بم دھماکے کا ذمہ دار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کو قرار دیا تھا۔جبکہ کردستان ورکرز پارٹی اور کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس نے استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب کسی گروہ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک قبول نہیں کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *