Erdogan meets King Salman and Crown Prince MBS in Riyadhتصویر سوشل میڈیا

استنبول:(اے یو ایس ) سعودی عرب کے دورے کے دوران خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کا استقبال کیا۔ اس موقعے پرگفتگو اور ٹویٹر پر متعدد ٹویٹس میں ترک صدر نے اپنے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے بات کی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔یہ کہ ترکی کی سلامتی اور استحکام۔ خلیج کی کی سلامتی اور استحکام کا حصہ ہے۔سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ شاہ سلمان نے جمعرات کی شام جدہ کے السلام محل میں ترک صدر کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود تھے۔

ایجنسی نے مزید بتایا کہ ترک صدر کے لیے باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جہاں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ اس کے بعد شاہ سلمان ترک صدر کے ہمراہ شاہی دربار کے مرکزی استقبالیہ ہال میں گئے۔شاہ سلمان نے اردوغان اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کا مملکت میں خیرمقدم کیا جب کہ ترک صدر نے مملکت کا دورہ کرنے اور شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔بعد ازاں سعودی ولی عہد نے جدہ کے پیس پیلس میں ترک صدر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں انہوں نے سعودی عرب۔ ترک تعلقات اور انہیں مختلف شعبوں میں ترقی دینے کے مواقع کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان خطے کی تازہ ترین صورت حال، علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفتوں اور کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔اپنے دورہ سعودی عرب کے بارے میں ترک صدر نے ٹویٹر پربھی متعدد ٹویٹس کیں۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خلیج کی سلامتی ترکی کی سلامتی کے مترادف ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انقرہ ریاض کے ساتھ ہر قسم کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض کے ساتھ صحت، توانائی، فوڈ سیکیورٹی، زرعی ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور مالیات کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہو گا۔اردوغان نے مزید کہا کہ ماضی کے مقابلے میں بہتر سطح پر تعلقات کو بڑھانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان قابل تجدید اورشفاف توانائی کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہمیں دونوں ممالک میں امکانات نظر آتے ہیں۔ترک صدر کا کہا تھا کہ ہم ہر موقع پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم خلیجی خطے میں اپنے بھائیوں کے استحکام اور سلامتی کو اسی طرح اہمیت دیتے ہیں جس طرح ہم اپنے استحکام اور سلامتی کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات اور تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *