Erdogan to speak with Putin, Zelensky to save grain dealتصویر سوشل میڈیا

استنبول:(اے یوایس )ترک وزیرخارجہ نے مولودچاوش اوغلو کہا ہے کہ صدر رجب طیب اردوغان اناج کی برآمد کے معاہدے کی بحالی کے حوالے سے عنقریب اپنے روسی اور یوکرینی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔مولودچاوش اوغلو نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ہمارے صدر آنے والے دنوں میں روسی صدر ولادی میرپوتین اوریوکرین کے صدر ولادیمیرزیلنسکی سے بات چیت کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے،ہم اس مسئلہ پر قابو پا لیں گے۔اناج کے معاہدے سے ہر کسی کو فائدہ ہوگا ۔

واضح رہے کہ ترکی اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں 22جولائی کواناج کی برآمدات کا معاہدہ طے پایا تھا اور اس پرترکی نے بھی متحارب ممالک روس اور یوکرین کے ساتھ دست خط کیے تھے۔ اب اس نے اس معاہدے کو بچانے کے لیے سفارتی کوششیں تیزکردی ہیں۔روس نے گذشتہ ہفتے کے روزجزیرہ نما کریمیا میں واقع بندرگاہ سیفستوپول میں اپنے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے پر ڈرون حملوں کے بعد غیرمعینہ مدت کے لیے اس معاہدے میں اپنی شرکت معطل کردی تھی۔صد اردوغان نے پیرکے روزکہا تھا کہ ترکی روس کی ہچکچاہٹ کے باوجود اس معاہدے کو نافذ العمل رکھنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں اس معاہدے کے تحت یوکرین بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے اناج اور کھاد کی برآمدات کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب رہا ہے۔اس سے پہلے 24 فروری کو روس کے حملے کے بعد یوکرین کی زرعی اجناس کی برآمدات معطل ہوکررہ گئی تھیں۔ اس معاہدے پرابتدائی طور پر 120 دن کے لیے اتفاق کیا گیا تھا۔اب اس کی تجدید 19 نومبرکو متوقع ہے۔اس معاہدے کا مقصدیوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے عالمی غذائی بحران کو کم کرنا ہے۔اس کے تحت یوکرین اب تک 97 لاکھ ٹن سے زیادہ اناج برآمد کرچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *