کابل:یورپی یونین کی عالمی انسانی حقوق کی پابندیوں کے نظام پر عمل آوری کرتے ہوئے یورپی کونسل نے افغانستان سمیت کئی ممالک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خلاف ورزیوں کے مرتکب 18 افراد اور پانچ اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کردیں۔ کونسل کے ایک بیان کے مطابق6افراد بشمول تین اعلیٰ طالبان رہنما جنسی اور صنفی بنیادوں پر تشددکے مرتکب پائے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ پابندی کی زد میں آنے والوں میں طالبان کے نگراں وزیر تعلیم مولوی حبیب اللہ آغا ، وزیر انصاف عبدالحکیم شیری اور افغانستان کی طالبان سپریم کورٹ کے نگراں چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی بھی شامل ہیں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان طالبان رہنماو¿ں کاافغان لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم، انصاف تک رسائی یکساں سلوک کے حقوق سے محروم کرنے میں کلیدی کردار تھا۔
طالبان نے یورپی یونین کونسل کے تازہ ترین اقدام پر، جس میں اس نے طالبان کے تین اعلی رہنماؤں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے،ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات کرنے کے بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔جمعہ کو ایک ٹویٹ میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یورپی یونین کونسل کے اس اقدام سے کسی بھی فریق کا بھلا نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بجائے مفاہمت ، بات چیت اور افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی پالیسیوں سے افغانستان میں کبھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔
تصویر سوشل میڈیا 