Ex-UK defense chief suggests recognition of Islamic Emirateتصویر سوشل میڈیا

لندن: برطانوی فوج کے سابق چیف آف ا سٹاف جنرل سر ڈیوڈ رچرڈز کا کہنا ہے کہ مغرب کو افغانستان میں اپنی ناکامی کو تسلیم کرنا چاہیے اور طالبان کو تسلیم کرنا چاہیے۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈیوڈ رچرڈز نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مغربی حکومتیں اس بات کو مان لیں کہ افغانستان میں جنگ ہاری جا چکی ہے اور اب دنیا کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر افغان عوام کو بھیانک انسانی بحران سے بچانے کے لیے کام کریں۔

سابق برطانوی چیف آف اسٹاف کا خیال ہے کہ مغرب کو آخر کار طالبان کو تسلیم کر نا ہی پڑے گا تو اس میں دیر کیوں کی جائے ۔ اس لیے وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان میں انسانی بحران کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ایسا فوری طور پر کیا جانا چاہیے۔ ڈیوڈ رچرڈز نے کہا کہ ایک مشہور مقولہ ہے کہ؛ جیتتے وقت اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کر نا چاہیے۔ میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی شکست میں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اگست میں بر سر اقتدار آنے کے بعد سے ابھی تک کسی حکومت نے امارت اسلامیہ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

دریں اثنا، ایک سابق فوجی ماہر ثمر سادات نے کہا کہ امریکیوں کو افغانستان میں فوجی شکست ہوئی ہے اور انہیں یہ شکست تسلیم کرنی چاہیے کیونکہ وہ حکومت جو ناٹو اور امریکہ کی 20 سال کی موجودگی کا نتیجہ تھی امریکیوں کی نظروں کے سامنے گر گئی۔ دریں اثنا امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امارت اسلامیہ کو یقین ہے کہ افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے باضابطہ وابستگی اور باہمی تعاون کو افغانستان اور دنیا دونوں کے بہتر مفاد میں بھی سمجھتی ہے۔اس لیے ہماری درخواست ہے کہ تمام ممالک اس سلسلہ میں مصروف ہو جائیں اور افغانستان کے عوام کی مدد کریں اور اور افغانستان میں امارت اسلامیہ کی حکمرانی کو تسلیم کر یں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *