دوبئی: نئی امریکی پابندیوں پر ایران میں شدید ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے اور اسے امریکہ کی بوکھلاہٹ اور ایرانیوں کو پریشان کرنے کا نیا قدم بتایا جا رہا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے جمعرات کے روز کہا کہ نئی امریکی پابندیاں اس امر کی غماز اور تازہ ترین ثبوت ہیں کہ امریکہ ایرانی عوام پر اپنا دباؤ بڑھانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا۔
بدھ کے روز امریکہ نے ایران کے بالسٹک میزائل پروگرام میں حکومت ایران کا ساتھ دینے پر ایران میں ایک محصولاتی ایجنٹ محمد علی حسینی اور اس کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں۔یہ اقدام 13مارچ کو عراق کے اربیل پر ایران کے میزائل حملہ ،یمن کے ایران حمایت
یافتہ حوثی باغیوں کے سعودی تیل تنصیب آرامکو پر حملے اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات پر حالیہ حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔ ایران نے اربل پر میزائل حملوں کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے جنگی نوعیت سے اہمیت کے حامل ایک اسرائیلی مرکزکو ہدف بنا کر حملہ کیاتھا۔اور اس کے ساتھ ہی مزید حملوںکا انتباہ بھی دیا تھا۔
خطیب زادے نے کہا کہ یہ اقدام ایرانی عوام کے تئیں امریکی حکومت کے سنگدلانہ رویہ کی ایک اور علامت ہے کیونکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو¿ ڈالنے کی اس کی ہر پالیسی کی ناکامی کا سلسلہ جاری ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 