واشنگٹن:15 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک بیان میں افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی پر پابندیوں پر اپنی ‘گہری’ تشویش کا اظہار کیا اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ حق تعلیم کا احترام کریں اور تمام طالبات کے لیے اسکول دوبارہ کھولنے کے اپنے وعدوں پر عمل کریں۔ یہ بیان آسٹریلیا، کناڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی، اٹلی، جاپان، جمہوریہ کوریا، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے، اسپین، سویڈن، برطانیہ، امریکہ کے وزرائے خارجہ نے جاری کیا۔
دریں اثنا، افغانستان میں انسانی حقوق اور خواتین کے لیے امریکی ایلچی رینا امیری نے بھی ڈی ڈبلیو کو انٹرویو دیتے ہوئے موجودہ افغان حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ خواتین کے حقوق کی ایک کارکن، فرح مصطفوی نے کہا کہ افغان خواتین طالبان سے توقع کرتی ہیں کہ وہ لوگوں کے لیے سلامتی اور سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دیں اور لوگوں کی عام زندگی میں مداخلت نہ کریں۔ لیکن امارت اسلامیہ نے خواتین پر پابندیوں کی تردید کی۔
امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ ہم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں ایسے دعووں کی تردید کرتے ہیں۔ امارت اسلامیہ تمام افغان شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ اگر خواتین کے حوالے سے اس کی پالیسی میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی تو اس کے پاس امارت اسلامیہ کے خلاف استعمال کرنے کی قوت ہے۔
تصویر سوشل میڈیا