جنیوا(اے یو ایس ) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ادہانوم نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی جڑ تلاش کرنا اخلاقی تقاضا ہے اور تمام مفروضوں کی چھان بین کرنا لازمی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس بات کا تعین کرنے کے لیے پرعزم ہے کہ کورونا وائرس کیسے پھیلا۔امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے ذریعے ایک امریکی ایجنسی کی اطلاع دی گئی تھی جس نے اندازہ لگایا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ عالمی وبا چینی لیبارٹری کے ایک لیک کی وجہ سے پھیلی جس سے ڈبلیو ایچ او پر اس کے جوابات کے لیے دباو¿ بڑھا، تاہم چین اس سے انکار کرتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ مستقبل میں پھیلنے والی وباو¿ں کو روکنے میں مدد کے لیے اور ایک اخلاقی ضرورت کے طور پر ہلاک ہونے والے لاکھوں لوگوں کی خاطر اور طویل عرصے سے کورنا کے ساتھ رہنے والوں کی خاطر کورونا وائرس کی جڑ کو سمجھنا اور تمام مفروضوں کی کھوج کرنا باقی ہے جو کہ ایک ایک سائنسی ضرورت ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار کورونا وائرس کی وبا کو تین برس مکمل ہونے پر دیا، عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کو بیان کرنے کے لیے پہلی بار لفظ ’وبائی مرض‘ استعمال کیا تھا۔انسانی حقوق کے کارکنان، سیاست دانوں اور ماہرین تعلیم نے رواں ہفتے ایک کھلے خط میں کہا کہ وبا کو تین سال مکمل ہونے پر توجہ کورونا ویکسین کی غیر مساوی تقسیم کو آئندہ روکنے پر ہونی چاہیے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم 13 لاکھ جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔
تصویر سوشل میڈیا 