Four missing Afghan women activists released: UNتصویر سوشل میڈیا

کابل: طالبان کے خلاف مظاہرہ میں حصہ لینے کے بعد لاپتہ ہوجانے والی چار افغان سماجی کارکنان کو رہائی نصیب ہو گئی۔ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن نے اس کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے عبوری حکمرانوں نے ان افغان خواتین سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ لاپتہ ہوجانے والے ان کے رشتہ داروں کو بھی رہا کردیا۔

واضح ہو کہ اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عبوی حکومت نے مو¿ثر طریقے سے خواتین کو کئی سرکاری شعبوں میں کام کرنے سے روک دیا ہے اور زیادہ تر لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بند ہیں۔طالبان نے یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ خواتین شہروں اور قصبوں کے درمیان اس وقت تک سفر نہیں کر سکتیں جب تک کہ کوئی قریبی مرد رشتہ دار ان کے ساتھ نہ ہو۔

انہوں نے کابل اور دوسرے شہروں میں بہت سی دکانوں پر پوسٹر چسپاں کر کے خواتین کو برقع پہننے کی ترغیب دی ۔ ان پابندیوں کے خلاف اور خواتین کے حقوق کے لیے خواتین نے وہاں زبردست مظاہرے ا ور ریلیاں شروع کر دیں کیں ۔ جس کے بعد طالبان نے ناقدین اور خواتین کے حقوق کے لیے جدو جہد کرنے والی خواتین سماجی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔

اسی دوران چا معروف حقوق انسانی و خواتین کارکنان تمنا زریابی پریانی، پروانہ ابراہیم خیل، زہرہ محمدی اور مرسل عیار طالبان مخالف ریلی میں شرکت کے بعد سے ہی لاپتا ہو گئی تھیں ۔لیکن افغانستان کی امارت اسلامیہ انہیں حراست میں لینے کی مسلسل تردید کرتی رہی تھی۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ‘ان کے ٹھکانے اور حفاظت کے بارے میں طویل عرصے تک غیر یقینی کی صورتحال کے بعد چاروں لاپتہ فغان خواتین کارکنان کے ساتھ ساتھ ان کے غائب ہوجانے والے رشتہ داروں کو بھی رہا کردیا گیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *