Four social activists among six killed in North Waziristanتصویر سوشل میڈیا

پشاور: پاکستان کے شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ سے ایک تنظیم کے چار سماجی کارکن سمیت 6افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے چاروں سماجی کارکن یوتھ آف وزیرستان نامی تنظیم سے وابستہ تھے۔ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کی ، جس سے ایک سماجی تنظیم کے چار ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔ ضلع پولیس اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ تحصیل میرالی کے علاقے حیدر خیل میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے چلتی کار پر فائرنگ کر دی تھی۔ تمام جاں بحق کارکن سماجی تنظیم یوتھ آف وزیرستان کے ممبر تھے۔ ان سب کی شناخت وقار احمد ڈاور ، سنید احمد ڈاور ، عماد ڈاور اور اسد اللہ کے طور پر ہوئی ہے۔ لاشوں کو میرالی شہر کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ضرب عضب فوجی آپریشن کے بعد بننے والی نوجوان تنظیم نے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقے میں امن کی بحالی کے لیے کام کیا ہے۔ تنظیم نے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج اور دھرنا بھی دیا ہے۔ تقریباً دو سال قبل سیکورٹی اداروں نے یوتھ آف وزیرستان کے زیر اہتمام دھرنے کے خلاف کارروائی کی اور اس کے بانی صدر نور الاسلام ڈاور کو گرفتار کر لیا گیا۔حال ہی میں پاکستان کے سرحدی علاقوں بالخصوص شمالی وزیرستان کے ضلع میں دہشت گردانہ سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ میرالی قصبے میں ایک اور کیس درج کیا گیا ہے ، جہاں ایک بازار سے اغوا کیے گئے دو افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں توچی ندی کے قریب سے ملی ہیں۔

میرالی قصبے کے رہائشیوں نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے دو افراد کو کھادی مارکیٹ سے اغوا کیا تھا۔اب تک کسی گروپ نے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔متوفی ضلع لکی مروت کا رہائشی تھا۔ یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا جب جنوبی وزیرستان میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایک واقعہ خیسور گاو¿ں کا ہے ، جہاں مسلح افراد نے عبدالرحمن کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ متوفی رحمان کی گاو¿ں میں موبائل فون کی دکان تھی۔ ایک اور واقعے میں ضلع کے شکتوئی علاقے میں نامعلوم حملہ آور نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ پاکستانی پولیس بھی دہشت گردوں کا اصل نشانہ بن رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *