France to try Syrian regime officials for crimes against humanityتصویر سوشل میڈیا

پیرس(اے یو ایس ) اے ایف پی نےجو عدالتی دستاویزات دیکھی ہیں ان کے مطابق فرانسیسی ججوں نے شام میں بشار الاسد حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ساز باز کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ یہ فرانس میں اس نوعیت کاپہلا اقدام ہے۔ان میں بعث پارٹی کے قومی سلامتی بیورو کے سربراہ علی مملوک، شامی فضائیہ کے انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کے سابق سربراہ جمیل حسن اور فضائیہ کے ایک اور انٹیلی جنس افسر عبدالسلام محمود شامل ہیں۔گزشتہ بدھ کو دستخط کیے گئے اس حکم میں کہا گیا ہے کہ عہدہ داروں پر جو سب اسد کے سینئر مشیر ہیں، انسانیت کے منافی جرائم اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔فرانسیسی استغاثہ کا خیال ہے کہ تینوں عہدیدار دوو فرانسیسی نڑاد شامی شہریوں، مازن دباغ اور ان کے بیٹے پیٹرک کی موت کے ذمہ دار ہیں، جنہیں 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہر حال شامی عہدہ داروں یا ان کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کی مقدمے کے لیے پیش ہونے کی توقع نہیں ہے۔فرانس نے ان تینوں کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

ممکنہ جبری گمشدگیوں اور تشدد کی کارروائیوں کے بارے میں ابتدائی تحقیقات 2015 میں شروع کی گئی تھیں جب دونوں کے خاندان نے شکایت درج کروائی تھی۔2016 میں مکمل تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا تھا اور دو سال بعد بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔مازن دباغ دمشق کے فرانسیسی اسکول میں مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور پیٹرک دباغ، دمشق یونیورسٹی میں ادب اور ہیومینٹیز کی فیکلٹی میں زیر تعلیم تھے۔انہیں نومبر 2013 میں خود کو ایئر فورس انٹیلی جنس سروسز کے ارکان کے طور پر شناخت کرنے والے افسران نے گرفتار کیا تھا۔

مازن دباغ کے بہنوئی عبیدہ دباغ کے مطابق،جنہیں بھی حراست میں لیا گیا تھا، لیکن دو دن بعد رہا کر دیا گیا۔ ان دونوں کو میزے جیل لے جایا گیا، جو کہ حکومت کا مرکزی ٹارچر سینٹر سمجھا جاتا ہے۔ان کے بارے میں اس کے بعد کچھ خبر نہیں ملی اور 2018 میں حکومت نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پیٹرک کی موت 2014 اور اس کے والد کی موت 2017 میں ہوئی۔فرانسیسی تفتیش کاروں اور ایک این جی او ،کمیشن فار انٹرنیشنل جسٹس اینڈ اکاونٹیبلٹی،کے ذریعے جمع کیے گئے گواہوں کے بیانات کے مطابق، ان دونوں کے پیروں کے تلووں پر لوہے کی سلاخیں ماری گئیں، بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور ان کے ناخن کھینچ لیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *