برلن:(اے یو ایس)مختلف ادویات کی عدم دستیابی سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خام مال کی رسد میں کمی ادویات کی قلت کا بڑا سبب ہے۔ چھوٹے بچوں کو درد اور بخار سے نجات دلانے کے لیے میٹھے شربتوں کی کمی ایک نمایاں مسئلہ بنا ہوا ہے۔جرمنی میں ادویات کی کمی کی وجہ سے والدین کی اکثریت بخار اور درد سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا ذخیرہ کرنا چاہتی ہے۔ اگر بخار اور درد کے ساتھ ساتھ ایک مریض کو کووڈ انیس انفیکشن بھی ہو تو یہ ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
چھوٹے بچے، جو گولیاں نگل نہیں سکتے، ان کے لی پیراسیٹامول یا آئیبوپروفین پر مشتمل ایک میٹھا شربت تیار کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ہر سال اس دوا کی ایک کروڑ سے زائد چھوٹی بوتلیں فروخت کی جاتی ہیں۔ لیکن خام مال میں کمی کے سبب اب اکثر فارمیسیوں پر شیلف خالی نظر آنے لگے ہیں۔ایک کیمیسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ” اس سال کے آغاز پر ہی پیراسیٹامول کا شربت تھوڑا سا نایاب ہونا شروع ہو گیا تھا لیکن اب ہمارے پاس آئیبوپروفین شربت کے ساتھ ساتھ ناک کے ا سپرے کا ذخیرہ بھی دستیاب نہیں ہے اور بخار کے خاتمے کے ادویات کی سپلائی بھی کم ہے۔
اس کیمیسٹ کا مزید کہنا تھا کہ دوائیوں کی کمی کی موجودہ صورتحال میں بہتری نظر نہیں آرہی۔ ہم سردیوں کے لیے ادویات کا ذخیرہ کر رہے ہیں، جس کا مطلب ان ادویات کی ترسیل کو ابھی سے مربوط بنانا ہے۔ اور ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ بچوں کے لیے درد اور بخار ک±ش ادویات کے تمام معاہدے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ادویات کی رسد میں کمی نے پورے جرمنی کو متاثر کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ مایوس والدین اپنی پریشانی کو بانٹنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کے بخار اور درد کی شدت کو کم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ دوا ساز کمپنیاں خام مال کی قلت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے مقررہ مقدار میں ان ادویات کی ترسیل ممکن بنانے میں ناکام ہیں۔
بچوں کے امراض کے ماہر جرمن ڈاکٹروں نے کووڈ انیس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کے بعد بچوں میں سانس کی بیماریوں اور ناک بہنے کے امراض میں اضافہ دیکھا ہے۔ فارمیسی مالکان کے مطابق ادویات کی فراہمی میں سنگین رکاوٹوں اور ترسیل میں تاخیر کی خبروں کے بعد صارفین نے ادویات کو ذخیرہ کرنے کی نیت سے خریدنا شروع کر دیا ہے۔ادویہ سازی کی صنعت کو خام مال اور ہنرمند کارکنوں کی کمی کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کمپنیوں نے سالہاسال سے بچوں کے لیے درد کش ادویات کی تیاری پر منافع بھی نہیں کمایا ہے۔ دوا ساز کمپنی ٹیوا کے جنرل منیجر آندریاس ب±رخارڈ شکایت کرتے ہیں کہ پیداواری قیمتوں نے پیراسیٹامول شربت جیسی ادویات کی پیداوار کو خسارے میں تبدیل کر دیا ہے۔ کوئی بھی کمپنی اسے آگے چل کر برقرار نہیں رکھ سکتی۔
تصویر سوشل میڈیا 