Germany to buy fighter jets from US amid Russia’s invasion of Ukraineتصویر سوشل میڈیا

برلن،( اے یو ایس ) جرمنی، ایف۔35 لڑاکا جیٹ طیارے خریدے گا، امریکی فرم لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ یہ طیارے اس کے پرانے ٹورنیڈو ائیر کرافٹ کی جگہ لیں گے۔دو جرمن حکومتی ذرائع نے یہ خبر دی ہے،جن میں ایک کا کہنا ہے کہ برلن 35 سٹلیتھ جیٹ طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔جرمن ڈیفنس ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو فروری کے شروع میں بتا یا تھا کہ جرمنی ایف۔35 طیارے خریدنے کی خواہش رکھتا تھا لیکن فیصلہ نہیں کر پارہا تھا۔ٹورنیڈو وہ واحد جرمن جیٹ طیارہ ہے جو لڑائی کے دوران امریکی جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ، یہ جوہری اثاثے جرمنی میں ذخیرہ ہیں۔لیکن جرمن ائیر فورس1980 سے یہ جیٹ اڑا رہی ہے،اور برلن ان طیاروں کو 2025 سے سن 2030 کے درمیان تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

جرمن چانسلر نے گزشتہ ماہ محدود مالی وسائل کی شکار افواج کی ترقی کے لیے ایک سو بارہ ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ یہ اضافی خرچ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے لیے ایک بڑا اقدام ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے عسکری اعتبار سے اپنا پروفائل کم رکھا ہے۔جرمنی پر کئی برسوں سے یہ تنقید بھی ہوتی رہی ہے کہ وہ نیٹو دفاعی اتحاد کی جانب اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا نہیں کر رہا۔ اتحاد کے ہر رکن ملک کا فرض ہے کہ وہ اپنی مجموعی قومی ا?مدن کا دو فیصد نیٹو کی عسکری صلاحیتوں پر خرچ کرے۔ چانسلر شولز نے حال ہی میں دو فیصد سے زیادہ خرچ کرنے کا عہد کیا۔اس تبدیلی کی بڑی وجہ یوکرین پر روس کا حملہ ہے جس سے جنگ عظیم دوئم کے بعد اب ایک بار پھر یورپ جنگ کا میدان ہے۔

تاہم جدید ترین ایف۔35 طیاروں کی خرید سے فرانس اور سپین کے ساتھ مشترکہ لڑاکا جیٹ کی تیاری کا معاہدہ کمزور پڑنے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل سن 2040 میں متوقع تھی۔دو ہفتے قبل ہی چانسلر اولوف شلز نے اس مشترکہ پروگرام کو جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا تھا۔جرمن چانسلر نے کہا تھا کہ یہ ان کے لیے اہم ہے کہ جرمنی اپنے یورپی ساتھیوں سے مل کر جنگی طیارے اور ٹینک بناتا رہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قلیل مدت میں ٹورنیڈو کے بیڑے کی تبدیلی ضروری ہے جو بقول جرمن رہنما اب “بےکار” ہو چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *