Ghani’s fleeing ruined last-minute handover deal: Karzaiتصویر سوشل میڈیا

کابل: سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ سابق صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہوجانے کا خمیازہ اس شکل میں بھگتنا پڑا کہ غنی سے ایک جامع حکومت کو اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے آخری لمحات میں ہونے والا معاہدہ فوت ہو گیا۔ انہوں نے بدھ کے روز ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ سقوط کابل سے عین ایک روز قبل وہ اور قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سابق چیرمین عبداللہ عبداللہ نے غنی سے ملاقات کی تھی اور قطر کے دارالخلافہ میں طالبان رہنماؤں کے ساتھ اقتدزار میں حصہ داری کے حوالے سے ایک معاہدہ کرنے کے لیے اگلے روز 15دیگر سیاستدانوں کو لے کر کابل سے دوحہ جانے پر اتفاق کر لیا تھا۔لیکن 15اگست کو یہ افواہں پھیل گئیں کہ طالبان کابل میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

افغانستان کے سابق صدر کا خیال ہے کہ اگر حقیقی حکومت اور افغان عوام کی نمائندہ حکومت قائم ہو جاتی ہے تو بین الاقوامی برادری کے پاس کابل میں حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا۔سابق صدر امارت اسلامیہ اور دیگر افغان سیاست دانوں کے درمیان مشترکہ کام کو بھی موجودہ حالات میں ایک سنگین ضرورت کے طور پر دیکھتے ہیں۔سابق صدر حامد کرزئی نے کہا کہ چونکہ حقیقی حکومت اور افغان عوام کے حقیقی نمائندے کا ظہور ہی دنیا کے لیے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا واحد آپشن ہے۔ اس لیے امارت اسلامیہ اور افغانستان کے عوام کو مل کر حقیقی اور عوام کی نمائندہ حکومت تشکیل دینا ہوگی۔

طالبان حکومت اور ہم، افغانستان کے عوام کو، افغان عوام کی مرضی کے حصول کے لیے ملک کے اندر جو کچھ کرنا پڑے وہ کرنا چاہیے اور افغانستان کے تمام لوگوں کو اکٹھا کرنا چاہیے تاکہ عوام کی نمائندگی کرنے والی حقیقی حکومت ہو۔ تاکہ افغانستان کے تمام لوگ اپنے آپ کو ملک کے آئینے میں دیکھ سکیں اور خواتین کام پر واپس آ سکیں اور لڑکیاں ا سکول جا سکیں۔ لہٰذا ہمیں افغانستان کے لیے جو بھی ضروری اور اچھا ہے وہ کرنا ہے، اور جب ہم ایسا کریں گے تو بین الاقوامی برادری کے پاس ہمیں تسلیم کرنے سے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی، وہ ضرور آگے آئیں گے اور تسلیم کریں گے۔ مسٹر کرزئی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سابق صدر اشرف غنی کے کابل سے فرار نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں خلل ڈالا۔سیاستدان کا خیال ہے کہ اگر اشرف غنی فرار نہ ہوئے تو دوحہ میں جمہوریہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *