Global leaders hold ‘emergency’ meeting after missile hits Polandتصویر سوشل میڈیا

بالی: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے، جو انڈویشیا کے شہر بالی میں جی 20-کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں، یہ خبر ملتے ہی کہ روسی ساخت کا ایک میزائل ناٹو اتحادی پولینڈ کے مشرقی علقہ میں آکر گرا جس میں دو پولش شہری ہلاک ہو گئے، فوری طور پر جی سیون اور ناٹو رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

بائیڈن نے اس کی خبر ہوتے ہی علی الصباح پولس صدر اندریج دودا کو فون کیا اور دو شہریوں کی ہلاکت پر صدمہ اور تعزیت کااظہار کیا۔اور پھر اپنے ہوٹل کے ایک بال روم میں ایک بڑی گول میز پر ملاقات کرتے ہوئے انہوں نے جی-7 کے رہنماؤں کی، جس میں کناڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور یورپی یونین کے صدر کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور ناٹو اتحادیوں اسپین اور ہالینڈ کے وزرائے اعظم شامل تھے ، میزبانی کی۔

بائیڈن نے ان صحافیوں کے اس استفسار پر کہ کیا وہ پولینڈ کی صورتحال کے بارے میں کوئی تازہ معلومات فراہم کریں گے، نفی میں جواب دیا۔ پولینڈ نے بدھ کی صبح کہا کہ ایک روسی ساختہ میزائل ملک کے مشرقی علاقے میں گرا۔ جس سے ایک دھماکہ ہوا اور دو افراد ہلاک ہوگئے ۔ میزائل کا پولینڈ میں گرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ میں پہلی بار ناٹو کا کوئی ملک روسی ہتھیاروں کی زد میں آیا ہے ۔

یوکرین کے صد ولادمیر زیلنسکی نے اس میزائل حملے کو جنگ کا غیر معمولی پھیلاؤ بتاتے ہوئے مذمت کی۔ پولینڈ کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر خار جہ بیگنیف راو¿ نے روسی سفیر کو طلب کیا اور فوری طور پر تفصیلی وضاحت مانگی۔ پولش حکومت کے ترجمان پیوٹر میولر نے کہا کہ کچھ فوجی یونٹوں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے ۔ پولش میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ یہ میزائل یوکرین کی سرحد کے قریب واقع گاو¿ں پرزیوڈو میں ایک ایسے علاقہ میں آکر گرا جہاں اناج سکھایا جا رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *