کابل:میڈیکل اسکول کے کچھ گریجویٹس نے اپنے فارغ التحصیل ہونے والے دن، امارت اسلامیہ سے فوری طور پر لڑکیوں کے لیے اسکول اور یونیورسٹیاں کھولنے کا مطالبہ کیا۔ احمد اللہ نام کے ایک گریجویٹ طالب علم نے کہا کہ اس عرصے میں ہمارے ساتھ لڑکیاں بھی تھیں، بدقسمتی سے امارت اسلامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یونیورسٹیوں میں لڑکیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ایک گریجویٹ طالب علم محمد مصطفیٰ نے کہا کہ معاشرے میں، ہمیں خواتین اور مرد ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور ان کا وقت ضائع نہیں ہونا چا ہئے۔
دریں اثنا، تقریب میں شریک گریجویٹ طالب علموں کے خاندان کے کچھ افراد نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایک دن ان کی بیٹیاں بھی لڑکوں کے ساتھ گریجویشن کی سند حاصل کریں گی۔پکتیا کے رہائشی داو¿د نے کہاکہ ہم سب لڑکیوں کے لیے اسکول اور یونیورسٹیاں دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں اور لڑکیاں بھی لڑکوں کے ساتھ اپنے ڈپلومے حاصل کرنے کے لیے بیتاب ہیں۔پکتیا کے ہی ایک اور رہائشی برکت اللہ توکل نے کہا کہ ہم اعلیٰ تعلیم پر زور دیتے ہیں کہ لڑکیوں کو سکولوں اور یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ ہمیں خواتین ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا اعلیٰ تعلیم کے نائب وزیر لطف اللہ خیرخواہ نے گریجویشن کی تقریب میں کہا کہ اس معاملے میں وہ امارت اسلامیہ کی قیادت کے فیصلے کے مطابق عمل کریں گے۔ یہ سب پر واضح ہے کہ لڑکیوں کے اسکول بند رکھنے کا فرمان تا حکم ثانی معطل ہے۔ جب ہمیں اسکول کھلنے کے حوالے سے کوئی دوسرا فرمان ملے گا، اسکول اسی تاریخ کو شروع ہوں گے۔ حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق پکتیا یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول سے 146 طلبا نے گریجویشن کیا تاہم ان میں کوئی خاتون گریجویٹس نہیں تھیں۔
تصویر سوشل میڈیا 