Gunmen Assassinate Female Former Afghan Lawmakerتصویر سوشل میڈیا

کابل (اے یوایس)سابق رکن پارلیمنٹ مرسل نبی زادہ کو رات کے اندھیرے میں گھر پر گولی مار کر ہلاک کردیاگیا۔ مسلح افراد نے ان کے محافظ کو گولیوں سے چھلنی کیا۔ مرسل نبی زادہ مشرقی صوبہ ننگر ہار سے تعلق رکھتی تھیاور2018میں کابل سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ پولیس ترجمان نے کہا کہ اس حملے میں مرسل نبی زادہ کا بھائی بھی زخمی ہوا۔ یہ حملہ ہفتہ اور اتوار کی درمیان رات میں پیش آیا۔ مرسل نبی زادہ کے اہلِ خانہ نے طالبان حکام سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔مقتول کی والدہ نے مقامی نیوز چینل ‘طلوع ٹی وی’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “فائرنگ کی آواز سنی تو ہم گھر کے نچلے حصے میں چلے گئے، اس وقت حملہ آور فرار ہو چکے تھے اور ان کی بیٹی اور بیٹا خون میں لت پت پڑے تھے اور گارڈ موقع پر ہلاک ہو گیا تھا۔

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ پہلا واقعہ ہے جس میں معزول حکومت سے تعلق رکھنے والی کسی سیاست دان کو قتل کیا گیا ہو۔طالبان حکام نے ان تمام تر الزامات کو مسترد کیا ہے کہ ان کی سیکیورٹی فورسز نے ملک میں رہنے والے بعض سابق افغان اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی ہے۔مرسل نبی زادہ ان چند خاتون سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں میں شامل تھیں جنہوں نے سخت گیر گروپ کے ملک پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغانستان سے فرار ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔البتہ کسی گروپ نے سابق رکنِ قومی اسمبلی کے قتل کی ذمے داری قبول نہیں کی۔یاد رہے کہ 32 سالہ مرسل نبی زادہ افغانستان میں طالبان کے قبضے سے قبل رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔ ان کے قتل پر مختلف شخصیات کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔سابق افغان رکنِ پارلیمنٹ مریم سلیمان خیل نے مرسل نبی زادہ کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ایک مضبوط عورت جس نے افغانستان چھوڑنے کا موقع ملنے کے باجود اپنے عوام کے لیے لڑنے کا انتخاب کیا۔ ہم نے ایک ہیرا کھو دیا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *