Holocaust survivor shares her story with Emirati and Jewish children in Dubaiتصویر سوشل میڈیا

برلن:(اے یو ایس )جرمنی میں ہولو کاسٹ کے حوالے سے نازیوں کے بد ترین قرار دیے جانے والے مظالم میں بچ جانے والی یہودی خاتون نے دوبئی کے اسکول میں بچوں کو نازیوں کے ظلم کی کہانی سنائی۔ یہ خاتون آج کل عوامی رابطوں کے ایک تبادلے کے پروگرام کے تحت دوبئی میں ہیں۔91 سالہ کولگر کے ذہن پر 84 سال قبل 9 نومبر 1938 کو ہولو کاسٹ کے سلسلے اپنے گھر پر ہونے والی کی پوری تفصیلات نقش تھیں۔انہوں نے ا سکول کے بچوں کو انتہائی افسردہ انداز سے بتایا کہ 9 نومبر کی شام جرمنی کے شہر ہالے میں ان کے گھر کے دروازے پر نازیوں کے ایک گروپ نے دستک دی۔

نازی مقامی پولیس سربراہ کے ساتھ آئے تھے۔ دستک پر دروازہ کھولا تو نازی ان کے گھر میں گھس گئے اور گھر کے برتن توڑنا شروع کر دیے۔ فرنیچر کو الٹ پلٹ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مقدس کتاب تورات کو پھاڑ دیا۔ جو بھی مقدس چیز تھی اس کی بے حرمتی کی۔ میرے والد کی وہ شال جسے اوڑھ کر وہ نماز پڑھتے تھے اس پر مہر لگا دی۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ لوگ کچھ دیر بعد چلے گئے۔ جب ہم صبح بیدار ہوئے تو میں نے دیکھا کہ میرے والد کی دکان کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ ٹوٹے ہوئے شیشے ہم گھر والوں کو ہی صاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس دوران انہوں نے میری والدہ کو گندی یہودی خاتون کہہ کر گالیاں دیں۔انہوں نے دوبئی ا سکول میں اپنے اور اپنے اہل خاندان پر مظالم کا بھر پور نقشہ کھینچتے ہوئے کہا آج میں یہاں ا سکول میں بات کر رہی ہوں میں نہیں معلوم یہ کیونکر ممکن ہوا ہے۔ لیکن یہ ایک تاریخی واقعہ ہے اور بہت بڑا واقعہ ہے۔

مجھے امید ہے کہ آج اس سلسلے کا پہلا قدم ہے اور آئندہ بھی عرب قوموں اور یہودیوں کے درمیان ذاتی روابط رہیں گے۔زیادہ سے زیادہ عوامی اور ذاتی رابطوں کے نتیجے میں دو طرفہ افہام و تفہیم ممیں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تعصب اور تشدد میں کمی ہو گی۔کولگر نے لیوی ڈچ مین سے بھی گفتگو کی۔ لیوی ڈچ مین ایک یہودی ربی ہیں۔ وہ2014سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ وہ تب سے خلیجی ممالک میں پہلے یہودی ربی ہیں جو اپنی کمیونٹی کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ واضح رہے متحدہ عرب امارات میں تقریبا 200 کمیونیٹیز رہ رہی ہیں۔بعد ازاں ہولو کاسٹ کی چشم دید گواہ نے امارات کی طرف سے مختلف تہذیبوں کی تاریخ کے حوالے سے قائم کیے گئے عجائب گھر کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے ایک نئے باب کا افتتاح کیا۔91 سالہ یہودی خاتون کولگر نے بتایا کہ اس کے والدین کو نازیوں کے ایک کیمپ میں بند کر دیا تھا۔ یہ ایک معجزہ کہ زندہ بچ گئے۔

دوبئی تعلیمی کیمپس میں تقریب سے ایتان نیشلاس نے بھی خطاب کیا وہ بھی ہولو کاسٹ کے متاثرین میں سے ہیں۔ انہوں نے دوبئی اور امارات کے بارے کہا کہ کس طرح تیزی کے ساتھ یہ یہودیوں کی محفوظ پناہ گاہ بنتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا میں یہاں کھڑا ہوں میں کھجوروں کے درخت دیکھ رہا ہوں ، میں محسوس کر رہا ہوں کہ ابراہم معاہدے کے کھجور کے پودے کے سائے میں کھڑا ہوں تو مجھے پہلی بار احساس ہوا ہے کہ یہ ایک درست راستہ ہے جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ہم اچھے وقت کو دیکھ سکتے ہیں اور چاہیں تو پریشانی والے وقت کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے ہم ایک بہتر مستقبل کے لے کام کر رہے ہیں۔ اپنی اگلی نسلوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *