صنعا،(اے یو ایس)ہیومن رائٹس واچ نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں خواتین کی نقل و حرکت، اظہاررائے، صحت اور کام کی آزادی کے حق پر پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں کا تسلسل اقوام متحدہ کی جانب سے ملک میں ایک آزاد احتسابی میکانزم قائم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایرانی حمایت یافتہ گروپ کو ایک کتاب بھیجی ہے جس میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی منظم خلاف ورزی کی تفصیل دی گئی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں خواتین کی کی نقل و حرکت کی آزادی، اظہار رائے کی آزادی، صحت اور کام کا حق بھی شامل ہے۔ خواتین کے ساتھ بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کیاجا رہا ہے۔ یاد رہے حوثی باغیوں نے 2014 میں صنعا پر قبضے کے بعد سے خواتین کی آزادیوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔حوثی خواتین کی نقل و حرکت کی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں سمیت متعدد خلاف ورزیاں کرتے ہیں۔
خواتین کے لیے سفر کرنے کے لیے مرد سرپرست کا ساتھ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ حوثیوں سے وابستہ “جنرل اتھارٹی فار ریگولیٹنگ لینڈ ٹرانسپورٹ افیئرز” نے اگست 2022 میں پابندیوں کے دائرہ کار کو بڑھا دیا، خواتین کو اب محرم کے بغیر کسی بھی جگہ پر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انسانی حقوق کی ایجنسیاں حوثی حکام کو کسی بھی یمنی خاتون ملازم کے لیے سفری درخواست جمع کراتے وقت محرم کا نام ڈالنے پر مجبور ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ بہت سی خواتین ملازمین کے پاس کوئی محرم نہیں ہے جو ضروری کاروباری دوروں کے دوران ان کے ساتھ جا سکے جس کی وجہ سے وہ مستعفی ہو گئیں اور ان کے خاندانوں کی بنیادی آمدنی ختم ہو گئی۔ ماہرین نے کہا کہ یہ پابندیاں یمنی خواتین اور لڑکیوں کو انسانی امداد تک رسائی سے بھی روک رہی ہیں۔حوثی گروپ خواتین کے ملبوسات پر بھی زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کر رہا ہے، جیسا کہ انہوں نے حال ہی میں خواتین کے کپڑوں کی دکانوں پر لمبے سیاہ گاو¿ن کے علاوہ کوئی چیز فروخت نہ کرنے کے لیے پابندیاں عائد کردی ہیں۔ خواتین کے لیے ریسٹورنٹ اور کیفے سمیت کئی عوامی مقامات پر کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ خیال رہے 2021 میں حوثی حکام نے یمنی اداکارہ اور ماڈل انتصار الحمادی سمیت چار خواتین کو ناشائستہ حرکات میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک سے پانچ سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔
تصویر سوشل میڈیا 