I will forgive those who go back, Prime Minister Imran Khanتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد،( اے یو ایس ) وزیراعظم عمران خان نے منحرف اراکین کو پیش کش کی ہے کہ وہ حکومت کے پاس واپس آجائیں، وہ انہیں معاف کردیں گے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے،پیسا چوری کرکے حکومت بچانے سے بہتر ہے کہ میری حکومت چلی جائے، پیسے دے کر، رشوت دے کر اپنی حکومت بچانے پر لعنت بھیجتا ہوں۔خیبر پختونخوا (کے پی) ضلع مالاکنڈ کے علاقے درگئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تین غلاموں نے بڑی سازش کرکے بیرونی آقاؤں کی منت سماجت کر کے پاو¿ں پکڑ کر جوتے پالش کرکے انہیں یقین دلایا کہ ہم ا?پ کے غلام ہیں، عمران خان آپ کی بات نہیں مانے گا ہم ا?پ کے غلام ہیں، ہمیں حکومت کا موقع دیں ہم آپ کی تابعداری کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ غلام سن لیں کہ ا?پ لوگ شکست سے دوچار ہو ں گے ہم اس سیاسی معرکے میں بھی کامیاب ہوں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں فیصلہ کن وقت آچکا ہے، ایک طرف ملک کے نامور ڈاکو اکٹھے ہوگئے، دوسری طرف ان کے خلاف 25 سال سے جدوجہد کرنے والا شخص ہے۔وزیر عظم عمران خان نے کہا کہ نامور ڈاکو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) کے ایم این ایز کو خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے منحرف کارکنان کے لیے کہا کہ وہ لوٹے نہیں بن رہے بلکہ ضمیر فروش بن رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا سربراہ باپ کی طرح ہوتا ہے۔

پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو خبرار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیسے کے لیے اپنے ضمیر نہیں بیچیں، اپنے بچوں کی خاطر ایسی غلطی نہیں کریں، ووٹ بیچ کر آپ بدنام ہوجاؤ گے، کوئی شخص آپ کے بچوں سے رشتے داری نہیں رکھنا چاہےگا، کسی بھی ایم این اے نے ضمیر بیچ کر ووٹ دیا تو یاد رکھے یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ہمیشہ کے لیے ذلت اس کا مقدر بن جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے تجویز دی گئی کہ ا?پ کے پاس تو قومی خزانے کا بہت پیسہ موجود ہے، آپ بھی پیسے خرچ کرکے اراکین کو واپس لے ا?ئیں، میں نے جواب دیا کہ چاہے میری حکومت چلی جائے، مجھے اپنی آخرت کی فکر ہے، میں اپنی حکومت بچانے کے لیے لوگوں کے ضمیر نہیں خریدوں گا، عوام کا پیسہ چوری کرکے حکومت بچانے سے بہتر ہے کہ میری حکومت چلی جائے، پیسے دے کر، رشوت دیکر اپنی حکومت بچانے پر لعنت بھیجتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *