If I become president, I will release the secret document of the Kennedy assassination: Trumpتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن،(اے یو ایس ) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر وہ 2024 میں دوبارہ منتخب ہوئے تو وہ سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق تمام خفیہ دستاویز جاری کر دیں گے۔ٹرمپ کا یہ بیان ان کے ڈیموکریٹک چیلنجر رابرٹ کینیڈی جونیئر کے گزشتہ ہفتے اس دعوی کے بعد سامنے آیا ہے کہ اس بات کے “زبردست” شواہد موجود ہیں کہ ان کے چچا کی موت میں سی آئی اے ملوث تھی۔ٹرمپ نے پیر کو دی میسنجر کو بتایا میں نے بہت کچھ نکالا ہے، آپ جانتے ہیں اور میں باقی سب کچھ ظاہر کر دوں گا۔”2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک میمو میں لکھا تھا کہ جان ایف کیینڈی کے قتل سے متعلق ریکارڈز کو روکا جا رہا ہے کیونکہ قومی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خارجہ امور کے خدشات کی وجہ سے کچھ معلومات کو چھپائے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے میمو میں مزید کہا “میں آرکائیوسٹ کی سفارش سے اتفاق کرتا ہوں۔ قومی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، یا خارجہ امور کو قابل شناخت نقصان سے بچانے کے لیے مسلسل اخفا ضروری ہے اور یہ فوری افشائ کرنے میں عوامی مفاد سے کہیں زیادہ ہیں۔”فاکس نیوز چھوڑنے سے پہلے صحافی ٹکر کارلسن نے اطلاع دی کہ اس نے کسی ایسے شخص سے بات کی ہے جس کو جان ایف کینیڈی کے قتل کا براہ راست علم تھا۔ جب کارلسن سے پوچھا گیا کہ کیا جے ایف کے کے قتل میں سی آئی اے کا کوئی کردار تھا تو ذرائع نے کہا کہ جواب ہاں میں ہے، میرے خیال میں وہ ملوث تھے۔ یہ اس سے بہت مختلف ملک ہے جتنا ہم نے سوچا تھا۔1992 میں اس وقت کے صدر جارج ایچ بش جو اس وقت کے سی آئی اے کے ڈائریکٹر تھے، نے ایک قانون پر دستخط کیے جس میں جان ایف کیینڈی سے متعلق تمام دستاویزات کا عوامی انکشاف لازمی قرار دیا گیا تھا۔

تاہم انتظامیہ بشمول حالیہ صدر جو بائیڈن نے دستاویزات کو مکمل طور پر جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔ جبکہ کچھ مواد بائیڈن کے ذریعہ جاری کیا گیا ہے۔ اب بھی تقریباً 4,300 ترمیم شدہ ریکارڈ موجود ہیں۔”دی میسنجر” کے ساتھ ٹرمپ کے انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عوام کو جان ایف کینیڈی کے ریکارڈ کی رازداری کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے تو ٹرمپ نے جواب دیا ٹھیک ہے، میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن میں آپ کو بتاو¿ں گا کہ میں نے اسے جاری کر دیا ہے۔ بہت کچھ۔ میں اپنی مدت میں جاری کر چکا ہوں اور بہت جلد باقی کو جاری کر دوں گا۔پچھلی چھ دہائیوں کے دوران ایسے نظریات برقرار رہے ہیں جو تنہا شوٹر لی ہاروی اوسوالڈ کے ملوث ہونے کے سرکاری موقف کو چیلنج کرتے ہیں۔ وارن کمیشن کی رپورٹ نے سنگل پورٹ تھیوری کی توثیق کی۔ 1979 کی ہاو¿س کمیٹی کی رپورٹ نے ایک سے زیادہ سنائپرز کے امکان کو تجویز کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *