IHC to frame charges against ex-judge, others on January 7تصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد:(اے یو ایس ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج جسٹس رانا شمیم سمیت چار افراد پر سات جنوری کو توہین عدالت میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان افراد میں گلگلت بلتسان کے سابق چیف جج کے علاوہ نجی ٹی وی چینل جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور صحافی انصار عباسی شامل ہیں۔واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی کو 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز پر دباو¿ ڈالا تھا۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اس دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت سے متعلق نوٹسز کی سماعت شروع کی تو عدالت نے اصل بیان حلفی رانا شمیم کے وکیل کے حوالے کر کے کھولنے کا حکم دیا، جس پر رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے لفافہ کھولنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت خود اس سربمہر لفافے کو کھولے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا معلوم اس سربمہر لفافے میں کیا ہو۔ جس پر رانا شمیم کے وکیل نے جواب دیا کہ اس کو کھولا جائے اس میں بیان حلفی ہی ہو گا کوئی لو لیٹر نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سربمہر لفافے کو میں نہ کھولوں بلکہ بیان حلفی رانا شمیم کا ہے، وہی اس کو کھولیں۔رانا شمیم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ عدالت نے ہی یہ بیان حلفی طلب کیا تھا اس لیے عدالت ہی اس کو کھولے جس پر عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کو حکم دیا کہ وہ لفافہ کھول کر عدالت میں پیش کریں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے یقینی بنانا تھا کہ کہیں آزادی اظہار رائے سے ہم آگے نہ چلے جائیں۔انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو توہین عدالت نہ سمجھیں بلکہ یہ عدالتی کارروائی اس لیے شروع کی گئی کیونکہ بیانیہ بنایا گیا تھا کہ یہ عدالت کمپرومائز ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ عدالت اپنے آپ کو قابل احتساب بنا رہی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ توہین عدالت کیس نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احتساب کا مقدمہ ہے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ جس وقت انھوں نے بیان حلفی دیا تو اس وقت وہاں پر کون کون موجود تھا۔انھوں نے کہا کہ یہ بھی بتانا ہو گا کہ کہاں پر بیان حلفی دیا گیا اور یہ بیان حلفی کس نے کس کو لیک کیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ رانا شمیم کا بیان تھا کہ بیان حلفی سیل کر کے اپنے نواسے کو دیا اور اٹارنی جنرل کے بقول جب بیان حلفی کوریئر سروس کو دیا گیا تو وہ سیلڈ نہیں تھا۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس بیان حلفی کو دیکھنا چاہتے ہیں، کہیں لکھتے ہوئے اس میں کیلبری فونٹ تو استعمال نہیں کیا گیا۔گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ا±ن کے موکل کا کہنا ہے کہ یہ بیان حلفی ا±ن کی پرائیویٹ دستاویز ہے اور ا±ن کے موکل نے یہ بیان حلفی اپنی مرحومہ اہلیہ کے لیے ریکارڈ کروایا تھا۔انھوں نے کہا کہ ا±ن کے موکل نے یہ بیان حلفی پریس کو لیک نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو دیا نہیں۔ لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے صحافی انصار عباسی کو بھی کہا کہ بیان حلفی ا±ن کا نجی دستاویز تھا، انھیں کیسے ملا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اوریجنل (اصل) بیان حلفی اب ہم کہاں رکھیں؟ جس پر رانا شمیم کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ بیان حلفی عدالت کو بھیجا گیا ہے اپنے پاس ہی رکھیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل رانا شمیم نے جو جواب جمع کرایا اس میں سارا بوجھ انصار عباسی پر ڈال رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ سارا معاملہ یہ ہے کہ تین سال کے بعد ایک چیز سامنے آئی ہے اور جس جج کا نام تھا وہ چھٹی پر تھے بنچ میں بھی نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ بھی اس بینچ کا حصہ رہے ہیں تو کیا چیف جسٹس اطہر من اللہ کے بقول انھوں نے کمپرومائز کیا تھا۔کمرہ عدالت میں موجود پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ اب اس پر کارروائی آگے بڑھنی چاہیے اور بیان حلفی میں جن کے نام ہیں وہ جوابی بیان حلفی جمع کرائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان بار کونسل یہ کہہ رہی ہے جو بیان حلفی لکھا ہے وہ درست ہے تو پھر وہ اس عدالت کے ہر جج پر شک کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس بیان حلفی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تمام ججز کو مشکوک بنا دیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *