'Impending Himalayan water crisis: causes and effects'تصویر سوشل میڈیا

بائیس جون کو لندن میں قائم غیر منفعت بخش دی ڈیموکریسی فورم (ٹی ڈی ایف)کے زیر اہتمام” ہمالیائی پانی کا بحران: اسباب اور اثرات“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں قدرتی اور جغرافیائی سیاسی معاملات کا ٹکراو¿، آبی سیاست، اور ہمالیہ میں پانی کے حوالے سے زیادہ متفقہ نقطہ نظر تیار کرنے کے لیے چین کی ذمہ داری شرکاکے زیربحث خاص موضوعات میں شامل تھے۔

اپنے تمہیدی کلمات میں، ٹی ڈی ایف کے صدر بیری گارڈنر ایم پی نے بتایا کہ کس طرح ویبینار ماحولیاتی تبدیلی اور تازہ پانی پر اس کے اثرات، اور انتہائی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی مسائل، مثلاً ہندوکش ہمالیہ پر انحصار کرنے والوں کے درمیان کشیدہ تعلقات (بشمول پاکستان، افغانستان، چین، بھارت اور نیپال جیسے پیچیدہ قدرتی مظاہر کو) کو ایک ساتھ لایا ۔ ان کوہستانی سلسلوں کو تیسرے قطب کے نام سے جانا جاتا ہے، کیونکہ ان میں قطب شمالی اور قطب جنوبی سے باہر کی دنیا میں کہیں بھی برف اور منجمد پانی کی سب سے زیادہ مقدار ہوتی ہے، اور گارڈنر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح برفیلی چٹانوں اورتودوں کی ایک بڑی تعداد اس خطے لوگوں کے ساتھ ساتھ اس کے بہت سے دریا و¿ںکے نظام کو تقویت فراہم کرتی ہے۔ گارڈنر نے کہا کہ ایچ کے ایچ میں رہنے والے اور اس کے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے ایک تہائی لوگ پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، اور آدھے کو غذائی قلت کا سامنا ہے – اس لیے زرعی پیداوار کو خطرہ ایک سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔گارڈنر نے مزید کہا کہ خطے کے آبی وسائل کی سرحدی نوعیت سنگین سیاسی اور سیکورٹی اثرات کے امکانات پیدا کرتی ہے اور دریا کے ممالک کو تعاون کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ چین تبت کے سطح مرتفع کو کنٹرول کرتا ہے، اس لیے وہ ہمالیائی ایشیا کے چاروں خطوں میں پھیلے ہوئے سرحدی دریاو¿ں کے سر آب کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے باوجود محدود پانی کی فراہمی اور بہت زیادہ مانگ کے ساتھ اس کی اپنی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ہندوستان کو ایک خطرہ یہ لاحق ہے کہ چین کسی دن دریائے برہم پترا کا رخ شمال کی طرف موڑ دے گا، جب کہ چین بھی ہندوستان کے ارادوں کو سلامتی کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور ہندوستان کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ دریائے سندھ کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نہ صرف اعتماد کا فقدان ہے بلکہ بداعتمادی کے عمیق گڑھے ہیں۔ گارڈنر نے تعجب بھی ظاہر کیا کہ آب و ہوا کی وجہ سے سندھ کے پانی کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں جیسے نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کیا سندھ طاس معاہدہ کا جامع یا لچکدار ہونا کافی ہے۔
جی بی پنت نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ہمالیائی ماحولیات میں سائنسداں ڈاکٹر پارومیتا گھوش نے ہمالیائی پانی کے بحران، اس کے اسباب اور ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی نقطہ نظر سے اس کے اثرات پرسیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے جنگلات کے صفایہ ، موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلنا اور پیچھے کی جانب کھسکنا، زمینی استعمال میں تبدیلی، سڑکوں، ڈیموں اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر سے زمین کی ہیئت میں تبدیلی اور پانی کے حوالے سے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے نقصان جیسے معاملات ، جو ہمالیہ کے پانی کے بحران کا باعث بنے ہیں،اٹھائے ۔ ڈاکٹر گھوش نے دلیل دی کہ پانی کی کمی زراعت، سیاحت اور پانی سے وابستہ دیگر پیشوں اور روزگار میں روزی روٹی کے نقصان کا باعث بن رہی ہے، اور غذائی عدم تحفظ کا باعث بھی بنتی ہے جبکہ صاف پانی کی کمی پانی سے ہونے والے امراض اورصحت و تندرستی کو لاحق دیگر خطرات کا باعث بنتی ہے۔ پانی کی کمی نہ صرف بین اقوام و ممالک بلکہ مقامی اور علاقائی سطح پر بھی انسانی ٹکراو¿ کا سبب بنتی ہے نیز پہاڑیوں سے باہر نقل مکانی کے بڑے عوامل و عواقب میں سے ایک ہے ۔، ڈاکٹر گھوش نے نتیجہ اخذ کیا کہ ہمالیائی پانی کے بحران کو روکنے کے لیے سماجی سائنس، معاشیات اور ماحولیات کی ہائیڈرو جیولوجی میں آمیزش کی جانی چاہئے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ڈیویچا سینٹر فار کلائمیٹ چینج کے ممتاز سائنسدان ڈاکٹر انیل کلکرنی نے گرم آب و ہوا کے تحت ہمالیائی سمندری برف کے پگھلنے اور یہ کہ یہ برصغیر میں پانی کی حفاظت کو کیسے متاثر کرے گا، کا جائزہ لیا۔ انہوں نے درجہ حرارت میں تبدیلی، بارش اور برف باری میں کمی، پہاڑی ندیوں کے خشک ہونے کا خطرہ، گلیشیرز کے تیزی سے بڑے پیمانے پر خاص طور پر قراقرم کے علاقے میں ، جہاں موسم باراں سے بہت کم پانی آتا ہے، غائب ہوجانے کا مسئلہ اور مختلف شعبوں خاص طور پر زرعی، گلیشیر پگھلنے سے متاثر زراعت کی مدد کے لیے کس طرح سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جیسے مسائل پر توجہ دی ۔ ڈاکٹر کلکرنی نے سندھ طاس معاہدے میں، جس کی رو سے پاکستان کو 70 فیصد سے زائد اور ہندوستان کو30فیصد سے بھی کم برفانی پانی فراہم کیا جاتا ہے، زبردست عدم مساوات کو بھی اجاگر کیا ۔

نیپال اکیڈمی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این اے ایس ٹی ) کے ماہر تعلیم، اور نیپال کے آبی وسائل کے سابق وزیر دیپک گیاو¿لی نے حیرت کا اظہار کیا کہ واقعی کیا ہمالیائی پانی کا بحران قدرتی ہے یا خراب سائنس، ناقص ارتقا اور بدانتظامی کا نتیجہ؟ ۔ انہوں نے اس مسئلے کی اصل جڑوں کو تلاش کیاجن میں سے سب سے بڑی پریشانی عمودی پن ہے، کیونکہ لوگ اتنی زیادہ اونچائیوں سے پانی نہیں لے جا سکتے اور اسے پمپ کے ذریعہ کھینچنے کی لاگت حوصلے پست کردینے والی ہے۔ انہوں نے ہمالیہ کے پانی کی چھ مختلف اقسام اور خصوصیات پر بھی غور کیا اور کہا کہ ان معاملات میں سے ہر ایک کے لیے کوئی متفقہ رائے بھی نہیں ہے کہ وہ کیا ہیں یا کس نے کھڑے کیے۔ گیاو¿لی نے کہا، کہ ہمالیہ کے پانیوں کا حل صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے جب مختلف تنظیمی طر یقہ کار وں کو( افسر شاہی درجہ بندی، منڈی کی انفرادیت اور کارکن مساوات) جمہوری پالیسی کی میز پر لایا جائے، اور ان کی صدائیں نہ صرف سنی جائیں بلکہ ان کا جواب بھی دیا جائے۔ لیکن، انہوں نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا کہ ہم اس مرحلے سے بہت دور ہیں۔

انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کی پرنسپل ریسرچر ڈاکٹر ادیتی مکھرجی کی توجہ خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر آئی پی سی سی اور ہندو کش ہمالیائی جائزے کے تازہ ترین نتائج پر تھی۔ انہوں نے اس پر اصرار کیا کہ تبدیلی قدرتی نہیں خود انسانوں کی دین ہے ۔ انسانی عمل دخل نے آب و ہوا کو اس غیر معمولی رفتار سے گرم کیا ہے جس کی کم از کم گذشتہ 2,000 سالوں میں مثال نہیں ملتی۔ اس طرح ہم ماحولیاتی تبدیلی والی دنیا میں رہ رہے ہیں ۔ یہ مستقبل کا رجحان نہیں ہے ۔ تقریباً تمام خطوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے جیسے کہ بادل پھٹ رہے ہیں اور اس کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔ اس لیے عالمی تغیرات کا ہمالیہ سے کیا مطلب ہے؟ ڈاکٹر مکھرجی نے خطے کے آبی وسائل کے لیے ان تغیرات و تبدیلیوں کا کیا مطلب ہے کے حوالے سے ماحولیاتی انصاف کے مسئلے کے بارے میں بات کی ۔ ڈاکٹر مکھرجی نے اس انتباہ کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی ’ذرا سی بھی تپش معنی رکھتی ہے، ہر سال اپنی ایک اہمیت اور ہر انتخاب اپنی ایک جدا حیثیت رکھتا ہے۔

تبت پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو، ماحولیات و تغیر ڈیسک کے ریسرچ فیلو دھونڈپ وانگمو کے نزدیک کلیدی مسئلہ تیسرا قطب(ہندو کش۔قراقرم۔ہمالیائی نظام) ، اور وہاں موسمیاتی تبدیلی کیوں معنی رکھتی ہے تھا۔ 46,000 برفانی چٹانوں سے گھرے حالات ایشیائی ماحولیاتی گردش کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تبتی سطح مرتفع اپنی جگہ اہم ہے۔یہ گردش برف اور برفیلے تودوں کے قدرتی طور پر پگھلنے اور معتدل بارش اور ماحولیات کے درجہ حرارت سے برقرار رکھی گئی ہے جو تبت کے سطح مرتفع سے بہنے والے دریاو¿ں کو وجود میں لاتے ہیں۔ تبت کے سطح مرتفع سے بہنے والے دریا ساحل کے کنارے واقع ممالک کے آبی و اقتصادی تحفظ کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔ تبت کے سطح مرتفع پر برفانی چٹانوں ، برف اور منجمد پانی کے گھلنے ٹوٹنے اور بکھرنے تمام متعلقہ ملکو ں کے آبی تحفظ کو متاثر کرے گا۔ لہٰذا تبت کے سطح مرتفع پر موسمیاتی تبدیلی صرف تبت کی ہی نہیں بلکہ عالمی تشویش ہے ۔

وانگمو نے کچھ پچھلے مقررین کے اس خیال سے اتفاق کیا کہ آب و ہوا میں تبدیلی بشری سرگرمیوں کا شاخسانہ ہے ۔ انہوں نے تبت پر چینی حملے کے اثرات ، جیسے ضرورت سے زیادہ ترقیاتی کام اور کان کنی پر اظہار خیال کیا ۔ تیسرے قطب کو کیسے بچائے جانے کے حوالے کیے گئے اس سوال پر وانگمو نے کہا کہ پہاڑی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے حیاتیاتی سرگرمیاں ٹھیک ٹھاک رکھنے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ چونکہ چین نیچے کی طرف بہاو¿ والے دریاو¿ں کی سب سے بڑی طاقت ہے اس لیے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ممالک کو چین کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے اور چین پر دباو¿ ڈالنا چاہئے کہ وہ ان کے ساتھ مذاکرات کرے۔ ترقی کے نام پر چین نے تسلسل سے ڈیموں کی تعمیر کرتے ہوئے انسانی حقوق اورسماجی اور ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کیا ہے۔ وانگمو نے زور دیا کہ پن بجلی پراجکٹ مقامی رہائشیوں کی رضامندی سے ہی چلائے جانے چاہئیںجبکہ بڑے اور وسیع تر معاملات عالمی سطح پر طے کیے جانے چاہئیں۔

ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ میں گلوبل ڈائریکٹر پانی ( نگراں) چارلس آئس لینڈنے پانی کی حفاظت اور عالمی آبی خطرے کے بارے میں ایک جائزہ اور وسیع تر نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے دائمی خطرے کے معاملے پر جیسے کہ بارش سے قدرتی طور پر حاصل کیے گئے پانی کے مقابلے زیادہ پانی کا استعمال اور سیلاب جیسے واقعاتی خطرہ کی جانب خاص توجہ دی ۔ آئس لینڈ نے پانی کی قلت سے تنگ آکر جبری نقل مکانی ، پانی کی قلت پر ٹکراو¿ کے مسائل پر بحث کی ، اور اس کے بارے میں بتایا کہ کس طرح خشک سالی اور سیلاب غذائی قیمتوں میں اضافے، خوراک کی عدم تحفظ اور اس کے نتیجے میں بدامنی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اپنے ساتھی پینلسٹس کی طرح، انہوں نے پانی کے سیاسی پہلوو¿ں پر بات کی، سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانی کے معاملے پراور ہندوستان اور چین کے درمیان ڈیم کی تعمیر پر کشیدگی میں اضافے کا ذکر کیا۔

اپنے اختتامی کلمات میں ٹی ڈی ایف کے صدر لارڈ بروس نے کہا کہ پانی کے معاملہ کو سیاست سے جوڑنا پورے سیمینار کا مرکزی موضوع بحث رہا اور تبت پر اپنے کنٹرول کے پیش نظر چین کو ہمالیائی خطے میں پانی کے حوالے سے زیادہ متفقہ نقطہ نظر کو فروغ دینے کی ذمہ داری لینے کی ضرورت کا حوالہ دیا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *