اسلام آباد: (اے یو ایس ) سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو ہونے والے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے شرکا پر مبینہ پولیس تشدد کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اسے ’قابل مذمت اور ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔حقیقی آزادی کے لیے عمران خان کے مارچ سے قبل حکام نے اجتماعات کو روکنے کے لیے دفعہ 144 کا اطلاق کیا تھا اور ان کا راستہ روکنے کے لیے اہم شاہراہوں پر شپنگ کنٹینرز رکھے گئے تھے۔حکومت کے ایسے اقدامات سے بے خوف ہوکر آزادی مارچ کے شرکا نے اسلام آباد پہنچنے کے لیے شاہراہوں پر رکھے کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کی تو پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج بھی کیا تھا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آئین اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مجرمانہ امپورٹڈ حکومت نے ہمارے پرامن آزادی مارچ کے مظاہرین کو پولیس کے ذریعے بربریت کا نشانہ بنایا جو قابل مذمت اور ناقابل قبول اقدام ہے۔عمران خان کے حقیقی آزادی مارچ سے قبل رات کو پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماو¿ں اور کارکنان کے گھروں پر گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مارے تھے، اس کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمارے مارچ سے قبل رات کو سندھ اور پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں کا تقدس پامال کیا اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا۔
پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارنے کے ایسے اقدام میں ایک پولیس اہلکار بھی جاں بحق ہوا تھا جس کا الزام پی ٹی آئی اور اتحادی حکومت ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔بعد ازاں، تحریک انصاف کا مارچ ڈی چوک پر دھرنا دیے بغیر 26 مارچ کو ختم کردیا گیا جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ جب تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جاتا یہ دھرنا جاری رہے گا۔
تصویر سوشل میڈیا 